(مصارفِزکوٰۃ)
بیوہاوربچوںکوترکہملنےپرزکوٰۃ
سوال:۔
ایک بیوہ عورت ہے جس کی اولاد نرینہ تین ہیں، اسے اپنے شوہر کے ترکہ میں تقریباً چالیس ہزار روپے ملے، اس نے وہ رقم بینک میں فکسڈ ڈیپازٹ رکھوادی، اور اس پر جو سود یا اب منافع جو بھی ملتا ہے اس سے اس کا گزر اوقات ہوتا ہے، کیا اس کے اُوپر زکوٰۃ واجب ہے؟ (یاد رہے کہ اس کے علاوہ ان کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں)۔
سوال:۔
جب حکومتِ پاکستان نے زکوٰۃ آرڈیننس نافذ کیا اور زکوٰۃ کاٹ لی، اس کے بعد اعلیٰ افسران سے رُجوع کیا گیا تو جواب میں انہوں نے محلہ کمیٹی کو زکوٰۃ فنڈ سے زکوٰۃ وظیفہ دینے کے لئے کہا، کیا وہ زکوٰۃ لینے کی حقدار ہے، جبکہ وہ اپنی آمدنی سے گزارہ کر رہی ہے اور زکوٰۃ لینا نہیں چاہتی؟
جواب:۔
اس رقم کو شرعی حصوں پر تقسیم کیا جائے،(۱) ہر ایک کے حصے میں جو رقم آئے اگر وہ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کو پہنچتی ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے،(۲) نابالغ بچوں کے حصے پر نہیں۔(۳)
جواب:۔
صاحبِ نصاب زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔(۴)
- (۱) ﵟ يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ﵞالنساء ٧٧:ﵟ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ ﵞ النساء ١٢
- (۲) الزکٰوۃ واجبۃ عل الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصابًا ملکا تامًّا وحال علیہ الحول۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۵)۔
- (۳) ومنھا العقل والبلوغ فلیس الزکٰوۃ علٰی صبی ومجنون۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲)۔
- (۴) ایضاً حاشیہ :الزکٰوۃ واجبۃ عل الحر...الخ

