بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌کی‌مستحق

سوال:۔

میری بیوہ بھاوج ہیں، ان کے پاس تقریباً ۱۵تولے سونے کا زیور ہے، جبکہ ان کی کوئی آمدنی نہیں ہے، نہ کوئی مکان ہے، نہ کوئی ذریعہ آمدنی ہے، ان کو کیا زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ یہ واضح رہے کہ یہ زیور ان کے پاس وہ ان کے شوہر اور ان کے والدین نے دیا تھا، ہمارے ساتھ رہتی ہیں، ان کا ایک بیٹا ہے جو ابھی پڑھ رہا ہے، اور کمانے کے قابل نہیں ہے۔

جواب:۔

آپ کی بھاوج کے پاس اگر ۱۵ تولے سونا ان کی اپنی ملکیت ہے تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں،(۱) بلکہ خود ان پر زکوٰۃ فرض ہے،(۲) ہاں! ان کے بیٹے کے پاس اگر کچھ نہیں تو اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔(۳)

  1. (۱) ولَا یجوز دفع الزکٰوۃ إلٰی من یملک نصابًا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹)۔
  2. (۲) الزکٰوۃ واجبۃ عل الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصابًا ملکا تامًّا وحال علیہ الحول۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۵)۔
  3. (۳) ان الطفل یعد غنیا بغنی أبیہ بخلاف الکبیر فإن لَا یعد غنیا بغنی أبیہ ولَا الأب بغنی ابنہ ولَا الزوجۃ بغنی زوجھا ولَا الطفل بغنی اُمّہ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۳۵۰، مطلب فی الحوائج الأصلیۃ)۔