بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

مال‌دار‌اولاد‌والی‌بیوہ‌کو‌زکوٰۃ

سوال:۔

ایک عورت جو کہ بیوہ ہے، لیکن اس کے چار پانچ لڑکے برسر روزگار ہیں، اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے، اگر وہ لڑکے ماں کی بالکل امداد نہیں کرتے تو کیا اس عورت کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟ اگر بالفرض اولاد تھوڑی بہت امداد دیتی ہے جو اس کے لئے ناکافی ہے، تب اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے یانہیں ؟

جواب:۔

جواب:۔اس خاتون کے اخراجات اس کے صاحب زادوں کے ذمہ ہیں،(۱) لیکن اگر وہ نادار ہے اور لڑکے اس کی مالی مدد اتنی نہیں کرتے جو اس کی روزمرّہ ضروریات کے لئے کافی ہو، تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) وعلی الرجل أن ینفق علٰی أبویہ وأجدادہ وجداتہ إذا کانوا فقراء وإن خالفوہ فی دینہ اما الأبوان فلقولہ تعالٰی ﵟوَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ ﵞ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص: ۴۴۵، باب النفقۃ، فصل فی من یجب النفقۃ ومن لَا یجب)۔
  2. (۲) ایضاً حاشیہ : ولَا یدفع إلٰی امرأتہ...الخ