(مصارفِزکوٰۃ)
مالداربیویکےغریبشوہرکوزکوٰۃدیناصحیحہے
سوال:۔
زید کی بیوی کے پاس چار ہزار روپے کا سونا اور چاندی ہے، جبکہ مقروض اس سے زائد ہے، (یاد رہے سونا چاندی زید کی بیوی کی ملکیت ہیں) اور زید کے والدین نے اسے گھر سے حصہ دینے سے انکار کردیا ہے، تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں کہ زید زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟ مقروض خود زید ہے، مال زید کی بیوی کے پاس ہے۔
جواب:۔
زید دُوسروں سے زکوٰۃ لے سکتا ہے،(۱) مگر اس کی بیوی اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی۔(۲) بہرحال شوہر اگر غریب ہے تو وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے، بیوی کے مال دار ہونے کی وجہ سے وہ مال دار نہیں کہلائے گا۔
- (۱) منھا الفقیر وھو من لہ أدنی شیء وھو ما دون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجۃ فلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرۃ غیر نامیۃ إذا کانت مستغرقۃ بالحاجۃ کذا فی فتح القدیر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۷)۔
- (۲) ایضاً حاشیہ: ولَا یدفع إلٰی امرأتہ...الخ

