(مصارفِزکوٰۃ)
بیویکاشوہرکوزکوٰۃدیناجائزنہیں
سوال۱:۔
عام طورپر بیوی کی کل کفالت شوہر کے ذمہ ہے، اگر بدنصیبی سے شوہر غریب ہوجائے اور بیوی مال دار ہو تو شرعاً شوہر کے بیوی پر کیا حقوق عائد ہوتے ہیں؟
۲:۔ مذکورہ شوہر کو بیوی سے زکوٰۃ لے کر کھانا کیا دُرست ہوگا؟
جواب۱:۔
عورت پر شوہر کے لئے جو حقوق ہیں، وہ شوہر کی غربت اور مال داری دونوں میں یکساں ہیں، شوہر کے غریب ہونے پر بیوی پر شرعاً یہ حق ہے کہ شوہر کی غربت کے پیشِ نظر صرف اس قدر نان و نفقہ کا مطالبہ کرے جس کا شوہر متحمل ہوسکے۔(۱) البتہ اخلاقاً بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے مال سے شوہر کی امداد کرے یا اپنے مال سے شوہر کو کوئی کاروبار وغیرہ کرنے کی اجازت دے۔(۲)
۲:۔ چونکہ شوہر اور بیوی کے منافع عادۃًمشترک ہیں، اور وہ دونوں ایک دُوسرے کی چیزوں سے عموماً استفادہ کرتے رہتے ہیں، اس لئے شوہر اور بیوی کا آپس میں ایک دُوسرے کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(۳)
- (۱) النفقۃ واجبۃ للزوجۃ علٰی زوجھا ۔۔۔ وتعتبر فی ذٰلک حالھما جمیعًا ۔۔۔ وعلیہ الفتویٰ وتفسیرہ انھما إذا کانا موسرین تجب نفقۃ الیسار وإن کانا معسرین فنفقۃ الْإعسار۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۴۳۷)۔
- (۲) عن زینب امرأۃ عبد اللہ بن مسعود قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تصدقن یا معشر النساء ولو من حلیّکن۔ قالت: فرجعت إلٰی عبد اللہ فقلت: إنک رجل خفیف ذات الید وأن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد أمرنا بالصدقۃ فأتہ فاسئلہ فإن کان ذٰلک یجزیء عنی وإلّا صرفتھا إلٰی غیرکم ۔۔۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لھما أجران أجر القرابۃ وأجر الصدقۃ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷۱، باب أفضل الصدقۃ)۔
- (۳) ولَا یدفع إلٰی امرأتہ للإشتراک فی المنافع عادۃ ولَا تدفع المرأۃ إلٰی زوجھا عند أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔

