بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

صاحبِ‌حیثیت‌آدمی‌کا‌اپنے‌والدین‌کی‌مالی‌مدد‌نہ‌کرنا،‌نیز‌اپنے‌بھائی‌کو‌چھوڑ‌کر‌دُوسروں‌کو‌زکوٰۃ‌دینا

سوال:۔

ایک شخص صاحبِ جائیداد اور صاحبِ حیثیت ہے، اچھی تنخواہ پر ملازم ہے، ویسے تو نیک ہی ہے، مگر دو مسائل ہیں۔ اس خوش حالی اور مالی طور پر مستحکم ہونے کے باوجود وہ اپنے والدین پر جو اِنتہائی غربت کا شکار ہیں، کچھ خرچ نہیں کرتا، اور نہ ہی ان کی مالی معاونت کرتا ہے، ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال:۔

اس کا دُوسرا بھائی عیال دار اور غریب ہے، اتنا غریب کہ فاقے تک ہوتے ہیں، اور کچھ احباب ساتھ دیتے ہیں۔ بھائی جو زکوٰۃ نکالتا ہے، مگر دُوسرے لوگوں کو دیتا ہے، بھائی کو نہیں دیتا، نہ ہی کسی طرح اس کی کچھ مدد کرتا ہے، بھائیوں میں تعلقات تو بہتر ہیں، مگر کسی طرح اس کی مدد نہیں کرتا، اِسلامی فقہ کے مطابق یہ فعل کس حد تک دُرست ہے؟

جواب:۔

یہ شخص جو خود تو خوش حال زندگی گزارتا ہے لیکن بوڑھے والدین کا خیال نہیں کرتا، گناہگار ہے، مرنے کے بعد عذاب میں مبتلا ہوگا۔(۱)

جواب:۔

آدمی کی زکوٰۃ کا مستحق سب سے پہلے اس کا بھائی، بھتیجے اور عزیز واقارب ہیں، جو شخص جتنا زیادہ نزدیک ہو، اتنا زیادہ مستحق ہے۔ یہ شخص جو اپنے بھائی اور اس کے کنبے کو چھوڑ کر، دُوسروں کو زکوٰۃ دیتا ہے، غلط کرتا ہے۔(۲)

  1. (۱) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا ﷲ فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّۃ، وإن کان واحدًا فواحدًا، ومن أصبح عاصیًا ﷲ فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النار، إن کان واحدًا فواحدًا، قال رجل: وإن ظلماہ؟ قال: وإن ظلماہ! وإن ظلماہ! وإن ظلماہ! (مشکٰوۃ ص:۴۲۱، باب البر والصلۃ)۔
  2. (۲) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف إلی الْإخوۃ والأخوات ثم إلٰی أولَادھم ۔۔۔ ثم إلٰی ذوی الأرحام ثم إلی الجیران۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔