بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

نادار‌بہن‌بھائیوں‌کو‌زکوٰۃ‌دینا

سوال:۔

میرے والد صاحب عرصہ ڈیڑھ سال سے فوت ہوچکے ہیں، اور میں گھر میں بڑا ہوں، اور شادی شدہ ہوں، فی الحال سارے گھر کی کفالت بھی خود کر رہا ہوں، گھر کے افراد کچھ یوں ہیں: ایک والدہ ماجدہ صاحبہ، ایک ہمشیرہ صاحبہ اور تین عدد چھوٹے بھائی ہیں، جن میں ایک برسر روزگار ہے، اور دو ابھی پڑھ رہے ہیں، میرے ذمہ زکوٰۃ بھی واجب ہے، کیا میں وہ زکوٰۃ اپنے بھائیوں کو دے سکتا ہوں اور ہمشیرہ صاحبہ کو؟ کیونکہ ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ رہا مسئلہ والدہ صاحبہ والا تو وہ میرا فرض ہے، اور سب ذمہ داری میں قبول کروں گا۔

جواب:۔

زکوٰۃ بہن بھائیوں کو دینا جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف إلی الْإخوۃ والأخوات۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)، نوی الزکاۃ إلّا أنہ سماہ قرضًا جاز فی الأصح لأن العبرۃ للقلب لَا للسان۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۶ ص:۷۳۳)۔