(مصارفِزکوٰۃ)
بھائیاوروالدکوزکوٰۃدینا
سوال:۔
اگر کوئی شخص حساب کتاب میں اپنے والد اور بھائیوں سے الگ ہو اور صاحبِ حیثیت بھی ہو، اب اگر یہ بیٹا والد صاحب کو زکوٰۃ اس طرح دینا چاہے کہ پہلے اپنے غریب مستحق بھائی کو دے دے اور بھائی سے کہہ دے کہ یہ رقم آپ اور والد دونوں استعمال میں لائیں یا بھائی سے کہہ دے کہ یہ رقم قبول کرکے والد کو دینا، جبکہ والد مستحق بھی ہو، کیا یہ صحیح ہے یا ایسی کوئی صورت ہے کہ یہ رقم والد کو دے دی جائے اور زکوٰۃ ادا ہوجائے؟
جواب:۔
بھائی کو زکوٰۃ دینا صحیح ہے،(۱) مگر اس سے یہ فرمائش کرنا کہ وہ فلاں شخص (مثلاً: والد صاحب) پر خرچ کرے، غلط ہے۔ جب اس نے بھائی کو زکوٰۃ دے دی تو وہ اس کی ملکیت ہوگئی، اب وہ اس کا جو چاہے کرے۔ اور اگر بھائی کو زکوٰۃ دینا مقصود نہیں، بلکہ والد کو دینا مقصود ہے اور بھائی محض وکیل ہے، تو بھائی کو دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔(۲)
- (۱) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)۔
- (۲) وتعتبر نیۃ الموکل فی الزکٰوۃ دون الوکیل کذا فی معراج الدرایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱، کتاب الزکاۃ)۔

