(مصارفِزکوٰۃ)
یتیمبھائیوں،بہنوںاوروالدہپرزکوٰۃکیرقمخرچکرنا
سوال:۔
کیا اپنے یتیم بھائیوں، بہنوں اور والدہ پر زکوٰۃ کی رقم بغیر ان کو بتائے خرچ کی جاسکتی ہے یا ان کو بغیر بتائے کہ یہ زکوٰۃ ہے دے سکتے ہیں؟
جواب:۔
والدہ کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(۱) بھائی بہن اگر محتاج ہوں تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔(۲) لیکن آپ کے یتیم بھائی بہن چونکہ خود آپ کی کفالت میں ہیں، اس لئے ان کو زکوٰۃ نہ دی جائے۔(۳)
- (۱) لَا یصرف ۔۔۔ إلٰی من بینھما ولَاد۔ (تنویر الأبصار ج:۲ ص:۳۴۶، طبع سعید)۔
- (۲) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)۔
- (۳) وفی رد المحتار: قلت والظاھر أنہ إذا احتسبہ من الزکٰوۃ تسقط عنہ النفقۃ المفروضۃ لِاکتفاء الیتیم بھا لما صرحوا بہ أن نفقۃ الأقارب تجب باعتبار الحاجۃ ۔۔۔ قال فی التتارخانیۃ عن المحیط إذا کان یعول یتیما ویجعل ما یکسوہ ویطعمہ من زکٰوۃ مالہ ففی الکسوۃ لَا شک فی الجواز لوجود الرکن وھو التملیک وأما الطعام فما یدفعہ إلیہ بیدہ یجوز أیضًا لما قلنا بخلاف ما یأکلہ بلا دفع إلیہ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۵۷، کتاب الزکاۃ)۔

