(مصارفِزکوٰۃ)
زکوٰۃکابتائےبغیربیوہبہنکیزکوٰۃسےمددکرنا
سوال:۔
زید کی ایک بہن بیوہ ہے، شوہر کی پنشن پر گزارہ ہے، بہو اور پوتوں اور دو بیٹوں کا ساتھ ہے، ایک برسر روزگار ہے، دُوسرا جو اولاد والا ہے بے روزگار ہے، زندگی کی گاڑی کسی طرح چل رہی ہے، لیکن مالی تنگی رہا کرتی ہے، شوہر کی پنشن اور بیٹے کی کمائی کفالت نہیں کرتی، تو ایسی صورت میں زید اگر اپنی بیوہ بہن کو فدیہ، زکوٰۃ یا فطرے کی رقم سے مالی اِمداد کرے تو شرعی اِعتبار سے کیا یہ جائز ہوگا؟ جبکہ بہن کو اس کا علم نہ ہو کہ اِمداد اس صورت سے کی جارہی ہے۔
جواب:۔
بہن اگر نادار ہے تو اس کو زکوٰۃ وغیرہ دینا جائز ہے۔ دیتے وقت دِل میں نیت کرلی جائے، ان کو بتانا ضروری نہیں، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ الصرف إلی الْإخوۃ والأخوات۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)، نوی الزکاۃ إلّا أنہ سماہ قرضًا جاز فی الأصح لأن العبرۃ للقلب لَا للسان۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۶ ص:۷۳۳)۔

