(مصارفِزکوٰۃ)
غریببہنبھائیوںاوردیگررشتہداروںکوزکوٰۃدینا
سوال:۔
کیا زکوٰۃ اپنے مستحق غریب بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو دی جاسکتی ہے؟ اور ان کو یہ بتانا کیا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے؟
جواب:۔
بہن بھائیوں کو اور رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے،(۱) بلکہ اس میں دو اَجر ہیں، ایک ادائے فریضہ کا، اور دُوسرا صلہ رحمی کا۔(۲) البتہ والدین اپنی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، اسی طرح اولاد اپنے والدین کو، دادا، دادی کو، اور نانا، نانی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی۔ میاں بیوی بھی ایک دُوسرے کو زکوٰۃ نہی دے سکتے۔(۳) جس کو زکوٰۃ دی جائے اس کو بتانا ضروری نہیں، البتہ دیتے وقت دِل میں نیت ہونا ضروری ہے۔(۴)
- (۱) والأفضل فی الزکٰوۃ ۔۔۔ أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات ۔۔۔ ثمّ إلی الأعمام والعمات ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
- (۲) روی ان امرأۃ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الصدقۃ علٰی زوجھا عبد اللہ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لک أجران، أجر الصدقۃ وأجر الصلۃ۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۴۰، کتاب الزکاۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔ وعن سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وعلٰی ذوی الرحم ثنتان: صدقۃ وصلۃ۔ رواہ النسائی والترمذی۔ (الترغیب والترھیب ج:۲ ص:۳۷)۔
- (۳) ولَا یدفع المزکی زکٰوۃ مالہ إلٰی أبیہ وجدّہ وإن علا ولَا إلٰی ولدہ وولد ولدہ وإن سفل ۔۔۔ ولَا تدفع المرأۃ إلٰی زوجھا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۰۶، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقات إلیہ)۔
- (۴) نوی الزکاۃ بما یدفع لصبیان أقربائہ أو لمن یأتیہ بالبشارۃ أو یأتی بالباکورۃ أجزأہ ۔۔۔ وکذا ما یدفعہ إلی الخدم من الرجال والنساء فی الأعیاد وغیرھا بنیۃ الزکاۃ، کذا فی معراج الدرایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔ وفی شرح الحموی: العبرۃ لنیۃ الدافع لَا لعلم المدفوع إلیہ۔ (الأشباہ والنظائر مع شرح الحموی ج:۱ ص:۲۲۱)۔

