(مصارفِزکوٰۃ)
بہنبھائیکیصدقۂفطراورزکوٰۃسےمددکرنا
سوال:۔
زید ایک شخص بوجہ نقاہت وزائد العمری دو تین سال سے روزہ نہیں رکھ سکتا، تو صدقۂ فطر کے مطابق سالِ گزشتہ دو سو دس روپیہ بطور فدیہ صوم غرباء میں تقسیم کراتے تھے، امسال آٹھ روپیہ صدقہ فطر بتایا جاتا ہے، تیس روزوں کے دو چالیس روپے ہوتے ہیں، زید مذکورہ بالا شخص کی حقیقی بہن سخت بیمار ہے، بیوہ ہے، کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے، ایک لڑکا ہے جو بیکار قسم کا نکھٹو قسم کا ہے، اس لئے یہ شخص زید جو زائد العمری کے سبب روزہ نہیں رکھ رہا ہے، اگر فدیۂ صوم کے بطور ۲۴۰روپے اپنی بیوہ بہن جو سخت ضرورت مند اور علاج معالجے کی بھی حاجت مند ہے، اگر بہن کو دیدے تو زید کی طرف سے فدیۂ صوم ادا ہوجائے گا یا نہیں؟
جواب:۔
زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور روزوں کے فدیہ کی رقم بھائی بہن کو دینا جائز ہے،(۱) بشرطیکہ وہ محتاج ہوں۔(۲)
- (۱) والأفضل فی الزکٰوۃ والفطر والنذر الصرف أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰)۔
- (۲) ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من النصاب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔

