بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

کم‌آمدنی‌والے‌خاندان‌کے‌بچوں‌کو‌عید‌پر‌زکوٰۃ‌سے‌کپڑے‌لے‌کردینا

سوال:۔

ہمارے قریبی رشتہ دار ہیں جو کہ ملازمت کرتے ہیں، ماہانہ تنخواہ دو ہزار روپے ہے، مکان اپنا ذاتی ہے، سات آٹھ بچے دو میاں بیوی ہیں، یعنی دس گیارہ افراد کا خاندان ہے، بیوی اکثر بیمار رہتی ہے، آپ کو معلوم ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں دو ہزار کی ویلیو کیا ہے۔ کیا ایسے خاندان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے جبکہ وہ صاحبِ نصاب نہیں ہے؟ ان کو بتاکر زکوٰۃ نہ دی جائے، یہ کہا جائے کہ آپ عید پر بچوں کے کپڑے لے لیں، یا بچوں کی کتابیں خرید لیں، بل ہم ادا کردیں گے، تفصیل سے روشنی ڈال دیں۔

جواب:۔

دے سکتے ہیں۔(۱)

  1. (۱) (منھا الفقیر) وھو من لہ أدنی شیء وھو ما دون النصاب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۷)، دفع الزکٰوۃ إلٰی صبیان أقاربہ برسم عید أو إلٰی مبشر أو مھدی الباکورۃ جاز۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۵۶، قبیل باب صدقۃ الفطر)۔