بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌کا‌صحیح‌مصرف

سوال:۔

کیا زکوٰۃ اور عشر کی رقوم کو ملکی دفاع پر یا انڈسٹری لگانے پر خرچ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ آج تک ہم لوگ یہی سنتے آئے ہیں کہ زکوٰۃ و عشر کی رقوم کو ان چیزوں پر نہیں خرچ کیا جاسکتا، لیکن میاں ۔۔۔ صاحب کے ایک اخباری بیان نے ہمیں حیران ہی نہیں بلکہ پریشان بھی کردیا، میاں صاحب فرماتے ہیں: ’’شرعی نقطۂ نگاہ سے حکومت زکوٰۃ و عشر کی رقومات کو ملکی دفاع پر خرچ کرنے کا حق رکھتی ہے، زکوٰۃ و عشر کے مصارف کے متعلق نمائندہ جنگ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ مذہبی نقطۂ نگاہ سے ملکی دفاع کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اگر وسائل موجود نہ ہوں یا کم ہوں تو پھر اس مقصد کے لئے زکوٰۃ و عشر کو استعمال کیا جاسکتا ہے، اسی طرح تبلیغِ دین اور اِشاعتِ دین کے لئے زکوٰۃ و عشر کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سلسلے میں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مد موجود ہے، انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کی رقوم سے ملک میں انڈسٹری بھی لگائی جاسکتی ہے، جس میں غریبوں، یتیموں اور مستحق افراد کو ملازمتیں ملنی چاہئیں، لیکن اس انڈسٹری کے قیام کے ساتھ ایک شرط یہ بھی ضروری ہے، اور وہ یہ کہ کھاتے پیتے افراد کو اس میں ملازمت نہ دی جائے۔‘‘ بحوالہ روزنامہ جنگ کراچی ۱۰؍دسمبر ۱۹۸۴ء۔ کیا میاں صاحب کا یہ نقطۂ نظر قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کے مطابق ہے؟ دلائل سے اس کی وضاحت فرمائیں۔

جواب:۔

زکوٰۃ، فقراء و مساکین کے لئے ہے، قرآنِ کریم نے ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی جو مد ذکر کی ہے اس میں ’’فقر‘‘ بطور شرط ملحوظ ہے، یعنی جو مجاہد نادار ہو اس کو اس کی ضروریات زکوٰۃ کی مد میں سے دی جاسکتی ہیں، جن کا وہ مالک ہوجائے۔(۱) مطلقاً ملکی دفاع، تعلیم، صحت اور رفاہِ عامہ کی مدات پر زکوٰۃ کا پیسہ خرچ کرنا صحیح نہیں،(۲) جو لوگ اس قسم کے فتوے صادر کرتے ہیں ان کے مطابق زکوٰۃ اور ٹیکس میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔

  1. (۱) أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولَا مولَاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ ﷲ تعالٰی ھٰذا فی الشرع کذا فی التبیین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) ولَا یجوز أنہ یبنی بالزکٰوۃ المسجد وکذا القناطر والسقیات وإصلاح الطرقات وکری الأنھار والحج والجھاد وکل ما لَا تملیک فیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔