(مصارفِزکوٰۃ)
ساداتلڑکیکیاولادکوزکوٰۃ
سوال:۔
ہندہ کی شادی زید کے ساتھ ہوئی تھی، جس سے اس کے دو بچے ہیں، کچھ عرصہ بعد زید نے ہندہ کو طلاق دے دی، بچے ہندہ کے پاس ہیں جو محنت کرکے ان کی پرورش کرتی ہے، زید بچوں کی پرورش کے لئے اس کو کچھ نہیں دیتا، ہندہ خاندانِ سادات سے تعلق رکھتی ہے، اور اس کے یہ بچے صدیقی ہیں، ہندہ کے عزیز، اقربا، بہن بھائی یا ماں باپ ان بچوں کی پرورش وغیرہ کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ ہندہ کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ کہ وہ صرف بچوں کے صرف میں لائے، کیونکہ ہندہ کے لئے تو زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے، شرعی اعتبار سے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔
جواب:۔
یہ بچے سیّد نہیں، بلکہ صدیقی ہیں، اس لئے ان بچوں کو زکوٰۃ دینا صحیح ہے، اور ہندہ اپنے ان بچوں کے لئے زکوٰۃ وصول کرسکتی ہے،(۱) اپنے لئے نہیں۔(۲)
- (۱) گزشتہ حاشیہ: ویجوز الدفع...الخ
- (۲) فإن تحریم الصدقۃ حکم یختص بالقرابۃ من بنی ھاشم ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۶۵، کتاب الزکاۃ)۔

