(مصارفِزکوٰۃ)
سیّدکیبیویکوزکوٰۃ
سوال:۔
ہمارے ایک عزیز جو کہ سیّد ہیں، جسمانی طور پر بالکل معذور ہونے کے باعث کمانے کے قابل نہیں ہیں، ان کے گھر کا خرچہ ان کی بیوی جو کہ غیرسیّد ہیں، بچوں کو ٹیوشن پڑھاکر اور کچھ قریبی عزیزوں کی مدد سے چلاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چونکہ ان کی بیوی غیرسیّد ہیں اور گھر کی کفیل ہیں تو باوجود اس کے کہ شوہر اور بچے سیّد ہیں، ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟
جواب:۔
بیوی اگر غیرسیّد ہے اور وہ زکوٰۃ کی مستحق ہے، اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔(۱) اس زکوٰۃ کی مالک ہونے کے بعد وہ اگر چاہے تو اپنے شوہر اور بچوں پر خرچ کرسکتی ہے۔(۲)
- (۱) ویجوز الدفع إلٰی من عداھم من بن ھاشم۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔
- (۲) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: کان فی بریرۃ ثلاث سنن احدی السنن انھا عتقت فخیرت فی زوجھا ۔۔۔ ودخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والبرمۃ تفور بلحم فقرّب إلیہ خبز وادم من ادم البیت فقال: الم ار برمۃ فیھا لحم! قالوا: بلٰی ولٰـکن ذالک لحم تصدق بہ علٰی بریرۃ وأنت لَا تأکل الصدقۃ، قال: ھو علیھا صدقۃ ولنا ھدیۃ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۶۱، باب من لَا تحل لہ الصدقۃ، الفصل الأوّل)۔

