(مصارفِزکوٰۃ)
ساداتکوزکوٰۃکیوںنہیںدیجاتی؟
سوال:۔
مولانا صاحب! میں نے اکثر کتابوں میں پڑھا ہے اور سنا بھی ہے کہ سادات لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دینا چاہئے، ایسا کیوں ہے؟
سوال:۔
سنی فقہ میں سیّدوں پر زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ کے استعمال کی ممانعت ہے، سوال یہ ہے کہ آیا اس فقہ میں غریب سیّد نہیں ہوتے؟ اور اگر ہوتے ہیں تو ان کی حاجت روائی کے لئے فقہِ سنی میں کون سا طریقہ ہے؟ اور اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کے زکوٰۃ و عشر میں کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟
جواب:۔
زکوٰۃ، لوگوں کے مال کا میل ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو اس سے ملوّث کرنا مناسب نہ تھا، وہ اگر ضرورت مند ہوں تو پاک مال سے ان کی مدد کی جائے۔(۱) نیز اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو زکوٰۃ دینے کا حکم ہوتا تو ایک ناواقف کو وسوسہ ہوسکتا تھا کہ یہ خوبصورت نظام اپنی اولاد ہی کے لئے تو ۔۔۔ معاذاللہ ۔۔۔ جاری نہیں فرماگئے؟ نیز اس کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے، اور وہ یہ کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو زکوٰۃ دینا جائز ہوتا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کی بنا پر انہی کو ترجیح دیتے، غیر سیّد کو زکوٰۃ دینے پر ان کا دِل مطمئن نہ ہوتا، اس سے دُوسرے فقراء کو شکایت پیدا ہوتی۔
جواب:۔
یہ مسئلہ سنی فقہ کا نہیں، بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمودہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لئے زکوٰۃ اور صدقہ حلال نہیں،(۲) کیونکہ یہ لوگوں کے مال کا میل کچیل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو اللہ تعالیٰ نے اس کثافت سے پاک رکھا ہے۔ سیّد اگر غریب ہوں تو ان کی خدمت میں عزّت و احترام سے ہدیہ پیش کرنا چاہئے۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ سیّدوں کی کفالت غیرصدقاتی فنڈ سے کرے۔
وقال المصنف فی الکافی وھٰذا فی الواجبات کالزکٰوۃ والنذر والعشر والکفارۃ أما التطوّع والوقف فیجوز الصرف إلیھم لأن المؤدی فی الواجب یطھر نفسہ بإسقاط الفرض فیتدنس المؤدی کالماء المستعمل وفی النفل تبرع بما لیس علیہ فلا یتدنس بہ المؤدی کمن تبرد بالماء اھـ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۶۵، کتاب الزکاۃ، باب المصرف)۔
- (۱) ولَا یدفع إلٰی بن ھاشم وھم آل علی وآل عباس وآل جعفر وآل عقیل وآل حارث بن عبدالمطّلب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
- (۲) عن عبدالمطلب بن ربیعۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انّ ھٰذہ الصدقات إنما ھی أوساخ الناس وانھا لَا تحل لمحمد ولَا لآل محمد۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۱۶۱، باب من لَا تحل لہ الصدقۃ)۔

