بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

سیّد‌اور‌ہاشمیوں‌کی‌اعانت‌غیرِ‌زکوٰۃ‌سے‌کی‌جائے

سوال:۔

اسلام دینِ مساوات ہے اور دینِ عدل و حکمت ہے، اسلام غیرمسلموں سے جزیہ وصول کرتا ہے تو انہیں اپنے زیرِ سایہ تحفظ فراہم کرتا ہے، اسلام زکوٰۃ دینے کا حکم دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ انہیں اُمت (ہاشمی کے علاوہ) کے غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں پر خرچ کیا جائے، یہ اسلام کا ایک حکم ہے، جس پر عمل کرنا واجب ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہاشمی اُمت کے غریبوں، بیواؤں، یتیموں، ناداروں، مسکینوں اور محتاجوں، غریب طالب علموں کے لئے کیا مالی تحفظ فراہم کرتا ہے؟

جواب:۔

ہاشمی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے اور اپنے متعلقین کے لئے زکوٰۃ کو ممنوع قرار دیا ہے۔(۱) یہ حضرات اگر ضرورت مند ہوں تو غیرزکوٰۃ فنڈ سے ان کی خدمت کرنی چاہئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کی خدمت کرنا بڑے اجر کا موجب ہے۔(۲)

  1. (۱) قولہ وبنی ھاشم وموالیھم أی لَا یجوز الدفع لھم لحدیث البخاری نحن أھل بیت لَا تحل لنا الصدقۃ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۶۵، کتاب الزکاۃ، باب المصرف)۔
  2. (۲) وقال المصنف فی الکافی وھٰذا فی الواجبات کالزکٰوۃ والنذر والعشر والکفارۃ أما التطوّع والوقف فیجوز الصرف إلیھم لأن المؤدی فی الواجب یطھر نفسہ بإسقاط الفرض فیتدنس المؤدی کالماء المستعمل وفی النفل تبرع بما لیس علیہ فلا یتدنس بہ المؤدی کمن تبرد بالماء اھـ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۶۵، کتاب الزکاۃ، باب المصرف)۔