بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

(مصارفِ‌زکوٰۃ)

زکوٰۃ‌کے‌مستحقین

سوال:۔

کن کن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اور کن کن کو ناجائز؟

سوال:۔

زکوٰۃ کی تقسیم کن کن قوموں پر حرام ہے؟ جبکہ ہمارے علاقے تحصیل پلندری بلکہ پورے آزاد کشمیر میں سیّد، ملک، اعوان اور لوہار، ترکھان، قریشی وغیرہ ان کے لئے زکوٰۃ حرام قرار دے کر بند کردی گئی، البتہ سیّد حضرات کے لئے توزکوٰۃ لینا جائز نہیں، دیگر دو قومیں جن میں قریشی کہلانے والے ترکھان، لوہار اور اعوان، ملک شامل ہیں زکوٰۃ کے حق دار ہیں یا نہیں؟ براہِ کرم اس کی بھی وضاحت کریں کہ سیّد گھرانے کے علاوہ حاجت مند لوگ مثلاً: یتیم، بیوہ، معذور زکوٰۃ لینے کے حق دار ہیں؟

جواب:۔

اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، اسی طرح شوہر بیوی ایک دُوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔(۱) جو لوگ خود صاحبِ نصاب ہوں ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (ہاشمی حضرات) کو زکوٰۃ دینے کا حکم نہیں،(۳) بلکہ اگر وہ ضرورت مند ہوں تو ان کی مدد غیرِزکوٰۃ سے لازم ہے۔(۴) اپنے بھائی، بہن، چچا، بھتیجے، ماموں، بھانجے کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔(۵) مزید تفصیل خود پوچھئے یا کسی کتاب میں پڑھ لیجئے۔

جواب:۔

زکوٰۃ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لئے حلال نہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مراد ہیں: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس اور آلِ حارث بن عبدالمطلب۔(۶) پس جو شخص ان پانچ بزرگوں کی نسل سے ہو اس کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی، اگر وہ غریب اور ضرورت مند ہو تو دُوسرے فنڈ سے ان کی خدمت کرنی چاہئے۔(۷)

  1. (۱) ولَا إلٰی من بینھما ولَاد ولو مملوکًا لفقیر أو بینھما زوجیۃ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف ج:۲ ص:۳۴۶، ھدایۃ ج:۱ ص:۲۰۶)۔
  2. (۲) ولَا یجوز دفع الزکٰوۃ من یملک نصابًا أی مال کان دنانیر أو دراھم أو سوائم أو عروضًا للتجارۃ أو لغیر التجارۃ فاضلًا عن حاجتہ فی جمیع السنۃ ھٰکذا فی الزاھدی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔
  3. (۳) ولَا إلٰی بنی ھاشم إلّا من أبطل النص قرابتہ وھم بنو لھب ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۵۰، باب المصرف)۔
  4. (۴) ھٰذا فی الواجبات کالزکٰوۃ والنذر والعشر والکفارۃ فأما التطوّع فیجوز الصرف إلیھم کذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  5. (۵) والأفضل فی الزکٰوۃ والفطر والنذر والصرف أوّلًا إلی الْإخوۃ والأخوات ثم إلٰی أولَادھم ثم إلی الأعمام والعمات ثم إلٰی أولَادھم ثم إلی الأخوال والخالَات ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع)۔
  6. (۶) ولَا یدفع إلٰی بن ھاشم وھم آل علی وآل عباس وآل جعفر وآل عقیل وآل حارث بن عبدالمطّلب کذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
  7. (۷) ھٰذا فی الواجبات کالزکٰوۃ والنذر والعشر والکفارۃ فأما التطوّع فیجوز الصرف إلیھم کذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔