بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

زکوٰۃ‌کی‌رقم‌سے‌قرض‌دینا

سوال:۔

میں نے زکوٰۃ اکاؤنٹ (بغیر سود) کھول رکھا ہے، اس میں سال بہ سال رقم جمع ہوتی رہتی ہے، اور میں حسبِ ضرورت رقم لوگوں کو اور اِداروں کو دیتا رہتا ہوں، سوال یہ ہے:

۱:۔ کیا اس اکاؤنٹ سے قرضِ حسنہ دے سکتا ہوں؟

۲:۔کیا اس اکاؤنٹ سے ضرورت مندوں کو قرض دے سکتا ہوں؟ وہ اگر وعدہ کے مطابق قرض واپس کردیں تو اکاؤنٹ میں رقم واپس جمع ہوجائے گی، اگر وہ واپس نہ کریں تو کیا اتنی ہی رقم زکوٰۃ کی مجھ پر واجب الادا رہے گی یا قرض لینے والے پر (میری) زکوٰۃ واجب الادا ہوگی؟ یا ہم دونوں پر؟ شریعت کے مطابق جو بھی جواب ہو، عطا فرمائیں۔

جواب:۔

آپ یہ رقم فقراء ومساکین کو مالک بناکر دے سکتے ہیں،(۱) لیکن اس رقم کو قرض کے طور پر دیتے رہنا صحیح نہیں۔(۲)

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ ﵞ التوبة ٦٠
  2. (۲) وأما رکن الزکاۃ ھو إخراج جزء من النصاب إلی اللہ تعالٰی وتسلیم ذالک إلیہ یقطع المالک یدہ عنہ بتملیکہ من الفقیر وتسلیمہ إلیہ أو إلٰی ید من ھو نائب عنہ وھو المصدوق والملک للفقیر یثبت من اللہ تعالٰی وصاحب المال نائب عن اللہ تعالٰی فی التملیک والتسلیم إلی الفقیر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۳۹، کتاب الزکاۃ)۔