زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
زکوٰۃکیرقمسےمکانبنوانا
سوال:۔
ایک شخص عموماً ایک رفاہی اِدارے کو زکوٰۃ کی رقم دے دیتا ہے، رفاہی اِدارے کے عمائدین کے مشورے سے اس نے رُقومات زکوٰۃ سے مکان بک کرائے اور یہ مکان اسی رفاہی اِدارے کو دے دئیے، یہاں یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ رقم پہلے اِدارے کو اَدا کرکے اس کے بعد اِدارہ کسی ٹھیکیدار سے تعمیر کرواتا، مگر اِدارے نے اس قسم کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے متذکرہ بالا امر کو ترجیح دی، یعنی مال کی صورتِ حال میں زکوٰۃ کی ادائیگی کی، کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا ہوگئی؟
جواب:۔
یہ مکان جب کسی محتاج کو دے دئیے جائیں گے (مالکانہ حقوق کے ساتھ) تب زکوٰۃ ادا ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔(۱)
- (۱) ولو دفع إلیہ دارًا لیسکنھا عن الزکٰوۃ لَا یجوز ۔۔۔ إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔

