بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

مالک‌بنائے‌بغیر‌فلیٹ‌رہائش‌کے‌لئے‌دینے‌سے‌زکوٰۃ‌ادا‌نہیں‌ہوگی

سوال:۔

دریافت طلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مد سے تعمیر کئے گئے فلیٹ حسبِ ذیل شرائط پر مستحقینِ زکوٰۃ کو دئیے گئے ہیں، تو زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟

شرائط:

۱:۔ یہ فلیٹ کم از کم پانچ سال تک آپ کسی کے ہاتھ بیچ نہیں سکیں گے (زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں)۔

۲:۔ متعلقہ فلیٹ آپ کو اپنے استعمال کے لئے دیا جارہا ہے، اس میں آپ کرایہ دار نہیں رکھیں گے، پگڑی پر نہیں دے سکیں گے، اور کسی دُوسرے شخص کو استعمال کے لئے بھی نہیں دے سکیں گے۔

۳:۔ آپ نے فلیٹ اگر کسی کو پگڑی پر دیا یا کرایہ دار رکھا تو اس کی اطلاع جماعت کو ملنے پر آپ کے فلیٹ کا حق منسوخ کردیا جائے گا۔

۴:۔ فلیٹ کے مینٹی ننس کی رقم جو جماعت مقرّر کرے وہ ہر ماہ ادا کرکے اس سے رسید حاصل کرنی پڑے گی۔

۵:۔ فلیٹ کی وساطت کسی دُوسرے فلیٹ کے قبضہ دار سے بدلی نہیں کیا جاسکے گا۔

۶:۔ اس عمارت کی چھت جماعت کے قبضے میں رہے گی۔

۷:۔ مستقبل میں فلیٹ بیچنے یا چھوڑنے کی صورت میں جماعت سے نوآبجکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد مزید کارروائی ہوسکے گی۔

۸:۔ اُوپر بیان کی گئی شرائط کے علاوہ جماعت کی جانب سے عمل میں آنے والے نئے اَحکامات اور شرائط کو مان کر ان پر عمل کرنا ہوگا، ان بیان کی گئی شرائط اور پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممبر سے جماعت فلیٹ خالی کراسکے گی اور فلیٹ میں رہنے والے کو اس پر عمل کرنا اور قانونی حق چھوڑنا ہوگا۔

(مذکورہ بالا اقرارنامہ کی تمام شرائط اور ہدایت پڑھ کر سمجھ کر منظور کرتا اور راضی خوشی سے اس پر اپنے دستخط کردیتا ہوں)

براہِ مہربانی جواب بذریعہ اخبار جنگ عنایت فرمائیں، تاکہ سب جماعتوں کو پتا چل جائے، کیونکہ یہ سلسلہ سکھر، حیدرآباد اور کراچی کی میمن برادری میں عام چل پڑا ہے، اور اس میں کروڑوں روپے زکوٰۃ کی مد میں لوگوں سے وصول کرکے لگائے جارہے ہیں۔

جواب:۔

زکوٰۃ تب ادا ہوتی ہے جب محتاج کو مالِ زکوٰۃ کا مالک بنادیا جائے، اور زکوٰۃ دینے والے کا اس سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ رہے۔(۱) آپ کے ذکر کردہ شرائط نامے میں جو شرطیں ذکر کی گئی ہیں وہ عاریت کی ہیں، تملیک کی نہیں، لہٰذا ان شرائط کے ساتھ اگر کسی کو زکوٰۃ کی رقم سے فلیٹ بناکر دیا گیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ زکوٰۃ کے ادا ہونے کی صورت یہی ہے کہ جن کو یہ فلیٹ دئیے جائیں ان کو مالک بنادیا جائے، اور ملکیت کے کاغذات سمیت ان کو مالکانہ حقوق دے دئیے جائیں کہ یہ لوگ ان فلیٹس میں جیسے چاہیں مالکانہ تصرف کریں، اور جماعت کی طرف سے ان پر کوئی پابندی نہ ہو۔ اگر ان کو مالکانہ حقوق نہ دئیے گئے تو زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، اور ان پر لازم ہوگا کہ اپنی زکوٰۃ دوبارہ ادا کریں۔

  1. (۱) أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولَا مولَاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ ﷲ تعالٰی ھٰذا فی الشرع کذا فی التبیین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰)۔ ھی لغۃ الطھارۃ والنماء وشرعًا تملیک ۔۔۔ جزء مال خرج المنفعۃ فلو أسکن فقیرًا دارہ سنۃ ناویا لَا یجزیہ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع ردالمحتار ج:۲ ص:۲۵۷)۔ وأما رکن الزکٰوۃ فرکن الزکٰوۃ ھو إخراج جزء من النصاب إلی اللہ تعالٰی وتسلیم ذٰلک إلیہ یقطع المالک یدہ عنہ بتملیکہ من الفقیر وتسلیمہ إلیہ أو إلٰی ید من ھو نائب عنہ وھو المصدق والملک للفقیر یثبت من اللہ تعالٰی وصاحب المال نائب عن اللہ تعالٰی فی التملیک والتسلیم إلی الفقیر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۳۹)، ولو دفع إلیہ دارًا یسکنھا من الزکٰوۃ لَا یجوز ۔۔۔ إذا دفع الزکٰوۃ إلی الفقیر لَا یتم الدفع ما لم یقبضھا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ)۔