زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
انکمٹیکساداکرنےسےزکوٰۃادانہیںہوتی
سوال:۔
ایک شخص صاحبِ نصاب ہے، اگر وہ شرع کے مطابق اپنی جائیداد، رقم وغیرہ سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو کیا شرعاً وہ ملکی نظامِ دولت کا وضع کردہ انکم ٹیکس ادا کرنے سے بری ہوجاتا ہے؟ اگر وہ صرف انکم ٹیکس ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ نہیں دیتا تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ نیز موجودہ نظام میں وہ کیا طریقہ اختیار کرے؟
جواب:۔
انکم ٹیکس ملکی ضروریات کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرّر ہے، جبکہ زکوٰۃ ایک مسلمان کے لئے فریضۂ خداوندی اور عبادت ہے، انکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، بلکہ زکوٰۃ کا الگ ادا کرنا فرض ہے۔(۱)
- (۱) فالدلیل علٰی فرضیتھا الکتاب والسنۃ والْإجماع والمعقول أما الکتاب فقولہ تعالٰی ﵟ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ ﵞوقولہ عزّ وجلّ ﵟ خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ﵞ ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲، کتاب الزکاۃ، طبع سعید)۔

