زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
دُکانمیںمالِتجارتپرزکوٰۃاورطریقۂادائیگی
سوال:۔
میں کتابوں اور اسٹیشنری کی دُکان کرتا ہوں، سامان کی مالیت تقریباً بارہ تا پندرہ ہزار ہوگی، دُکان کرایہ کی ہے، آیا یہ دُکان کا سامان قابلِ ادائیگیٔ زکوٰۃ ہے؟ یعنی اس مالِ تجارت پر زکوٰۃ فرض ہے؟
سوال:۔
اگر اس مال پر زکوٰۃ فرض ہے تو چونکہ اسٹیشنری کا سامان بہت ساری اشیاء پر مشتمل ہے اور میں روزانہ خریداری اور فروخت بھی کرتا ہوں، اس لئے اس کا حساب کتاب ناممکن سا ہوجاتا ہے، تو کیا اندازاً اس کی قیمت لگاکر زکوٰۃ ادا کرسکتا ہوں؟
جواب:۔
دُکان کا جو بھی مال فروخت کیا جاتا ہے، اگر اس مال کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہو تو اس مال پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔(۱)
جواب:۔
روزانہ کا حساب رکھنے کی ضرورت نہیں، سال میں ایک تاریخ مقرّر کرلیجئے، مثلاً: یکم رمضان کو پوری دُکان کے قابلِ فروخت سامان کا جائزہ لے کر اس کی مالیت کا تعین کرلیا جائے، اور اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کردیا کیجئے، جس تاریخ کو آپ نے دُکان شروع کی تھی، ہر سال اس تاریخ کو حساب کرلیا کیجئے۔(۲)
- (۱) واللازم ۔۔۔ فی مضروب کل منھما ومعمولہ ولو تبرا أو حلیا مطلقًا ۔۔۔ أو فی عرض تجارۃ قیمۃ نصاب۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۹۸، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال)۔
- (۲) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق والذھب ۔۔۔ وتعبتر القیمۃ عند حولَان الحول بعد أن تکون قیمتھا فی إبتداء الحول مائتی درھم من الدراھم الغالب علیھا الفضۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکٰوۃ الذھب والفضۃ ج:۱ ص:۱۷۹، طبع رشیدیہ)۔

