بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

اگر‌نقدی‌نہ‌ہو‌تو‌سابقہ‌اور‌آئندہ‌سالوں‌کی‌زکوٰۃ‌میں‌زیور‌دے‌سکتے‌ہیں

سوال:۔

اگر کوئی لڑکی جہیز میں اپنے ساتھ اتنا زیور لائے جس کی زکوٰۃ کی رقم اچھی خاصی بنتی ہو اور شوہر کی آمدنی سے سال میں اتنی رقم پس انداز نہ ہوسکتی ہو تو بتایا جائے زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے؟

جواب:۔

ان زیورات کا کچھ حصہ فروخت کردیا جائے یا کئی سال کی زکوٰۃ میں دے دیا جائے، یعنی اس کی قیمت لگالی جائے، اور زیورات کی زکوٰۃ جتنے سال کی اس کے برابر ہو اتنے سال کی نیت کرکے وہ زیور زکوٰۃ میں دے دیا جائے۔(۱)

  1. (۱) الفصل الأوّل فی زکٰوۃ الذھب والفضۃ، تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبًا کان أو لم یکن مصوغًا أو غیر مصوغ حلیا کان للرجال أو للنساء ۔۔۔ ویعتبر فیھا أن یکون المؤدی قدر الواجب وزنًا ولَا یعتبر فیہ القیمۃ ۔۔۔ وتوادی من خلاف جنسہ یعتبر القیمۃ بالْإجماع۔ (الفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۸، ۱۷۹، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب)۔