بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

بیوی‌خود‌زکوٰۃ‌ادا‌کرے‌چاہے‌زیور‌بیچنا‌پڑے

سوال:۔

میرے تمام زیورات کی تعداد تقریباً آٹھ تولہ سونا ہے، لیکن اس کے علاوہ میرے پاس نہ تو قربانی کے لئے اور نہ ہی زکوٰۃ کے لئے کچھ رقم ہے، لہٰذا میں نے ایک سیٹ اپنی بچی کے نام رکھ چھوڑا ہے، وہ اب زیرِ اِستعمال بھی نہیں، اور شوہر زکوٰۃ دینے پر راضی نہیں، اور کہتا ہے تمہارا زیور ہے تم جانو، مگر اس میں میری صرف اتنی ملکیت ہے کہ پہن سکوں تبدیل یا فروخت بھی نہیں کرسکتی، اب بچی والے زیور کی زکوٰۃ کون دے گا؟ بھائی کے دئیے ہوئے ڈھائی ہزار روپے پر زکوٰۃ نکال دیتی ہوں۔

جواب:۔

جو زیور آپ نے بچی کی مِلک کردیا ہے، وہ جب تک نابالغ ہے اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۱) لیکن اس کی ملکیت کردینے کے بعد آپ کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں۔(۲) باقی زیور اگر نقدی ملاکر حدِ زکوٰۃ تک پہنچتا ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے،(۳) اگر نقد روپیہ نہ ہو تو زیور فروخت کرکے زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔ اگر شوہر آپ کے کہنے پر آپ کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردیا کرے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۴) مگر اس کے ذمہ فرض نہیں۔ فرض آپ کے ذمہ ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے کی گنجائش نہ ہو تو اتنا زیور ہی نہ رکھا جائے جس پر زکوٰۃ فرض ہو، یہ جواب تو اس صورت میں ہے کہ یہ زیور آپ کی ملکیت ہو، لیکن آپ نے جو یہ لکھا ہے کہ: ’’اس میں میری صرف اتنی ملکیت ہے کہ پہن سکوں، تبدیل یا فروخت بھی نہیں کرسکتی‘‘ اس فقرے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیور دراصل شوہر کی ملکیت ہے، اور آپ کو صرف پہننے کے لئے دیا گیا ہے، اگر یہی مطلب ہے تو اس زیور کی زکوٰۃ آپ کے شوہر پر فرض ہے، آپ پر نہیں۔

  1. (۱) (وشرط وجوبھا العقل والبلوغ والْإسلام) أی شرط إفتراضھا لأنھا فریضۃ محکمۃ قطعیۃً ۔۔۔ وخرج المجنون والصبی فلا زکٰوۃ فی مالھما ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۱۷)۔ وأیضًا فلیس الزکٰوۃ علٰی صبی ومجنون ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۲، کتاب الزکاۃ، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
  2. (۲) لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بغیر إذنہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۰)۔
  3. (۳) تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبًا کان أو لم یکن ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)۔ لأن الواجب الأصلی عندھما ھو ربع عشر العین وإنّما لہ ولَایۃ النقل إلی القیمۃ یوم الأداء۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۲، کتاب الزکاۃ)۔
  4. (۴) وتعتبر نیۃ الموکل فی الزکٰوۃ دون الوکیل کذا فی معراج الدرایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱، کتاب الزکاۃ)۔