زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
پیسےنہہوںتوزیوربیچکرزکوٰۃاداکرے
سوال:۔
زکوٰۃ دینا صرف بیوی پر فرض ہے، وہ تو کماکر نہیں لاتی، پھر وہ کس طرح زکوٰۃ دے؟ جبکہ شوہر اس کو صرف اتنی ہی رقم دیتا ہے جو گھر کی ضروریات کے لئے ہوتی ہے۔
سوال:۔
زید کی بیوی کے پاس سونے کے زیورات ہیں جس کا وزن نہیں کرایا ہے، کیا اس کی زکوٰۃ بیوی کو دینی ہے یا شوہر کو؟ جبکہ شوہر تمام ضروریات خود پوری کرتا ہے، اور بیوی کو بہت کم رقم جیب خرچ کے لئے دیتا ہے۔ بعض اوقات شوہر کے پاس سال کے آخر میں اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ زکوٰۃ ادا کی جائے، شوہر کی آمدنی اسکول کے اُستاد کی تنخواہ اور ٹیوشن وغیرہ پر ہے، شوہر کی کچھ رقم نفع و نقصان کے کاروبار میں لگی ہوئی ہے، جس پر زکوٰۃ دی جاتی ہے، کیا پھر بھی سونے کے زیورات پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟
جواب:۔
اگر پیسے نہ ہوں تو زیور فروخت کرکے زکوٰۃ دیا کرے، یا زیور ہی کا چالیسواں حصہ دینا ممکن ہو تو وہ دے دیا کرے۔(۱)
جواب:۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے، اگر زید کی بیوی کے پاس اتنا سونا ہے جس کی وہ خود مالک ہے تو زکوٰۃ اس پر فرض ہے، اگر پیسے نہ ہوں تو زیور فروخت کرکے زکوٰۃ دی جائے۔(۲)
- (۱) تجب فی کل مائتی درھم خمسۃ دراھم وفی کل عشرین مثقال ذھب نصف مثقال مضروبًا کان أو لم یکن ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۸، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)۔ لأن الواجب الأصلی عندھما ھو ربع عشر العین وإنّما لہ ولَایۃ النقل إلی القیمۃ یوم الأداء۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۲، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) لم یختلفوا ان الحلی إذا کان فی ملک الرجل تجب فیہ الزکاۃ، فکذالک إذا کان فی ملک المرأۃ کالدراھم والدنانیر، وأیضًا لَا یختلف حکم الرجل المرأۃ فیما یلزمھا من الزکاۃ، فوجب أن لَا یختلفا فی الحلی۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۵۸ باب زکاۃ الحلی، طبع قدیمی)۔ ایضاً حوالہ بالا۔

