زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
آئندہکےمزدوریکےمصارفزکوٰۃسےمنہاکرنادُرستنہیں
سوال:۔
ایک شخص مکان بنوا رہا ہے، مزدور کام کر رہے ہیں، اس دوران زکوٰۃ دینے کا وقت آتا ہے، کیا وہ ان مزدوروں کی اُجرت الگ رکھ کر زکوٰۃ نکالے گا؟ یعنی اگر فرض کیا ۵۰ہزار بننے کا اندازہ ہے، تو ۵۰ہزار الگ رہنے دے اور اس کی زکوٰۃ نہ نکالے، کیونکہ میں نے پڑھا ہے کہ اگر نوکر ہیں کسی کے تو وہ ان کی تنخواہ انہیں دے کر پھر زکوٰۃ دے۔
جواب:۔
جتنا خرچ مکان پر اُٹھ چکا ہے، اور اس کے ذمہ مزدوروں کی مزدوری واجب الادا ہوگئی ہے، اس کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ کرسکتا ہے، لیکن آئندہ جو مصارف اُٹھیں گے یا مزدوری واجب ہوگی اس کو منہا کرنا دُرست نہیں۔(۱)
- (۱) (قولہ وملک نصاب حولی فارغ عن الدین وحوائجہ الأصلیۃ نام ولو تقدیرًا) ۔۔۔ والمراد بکونہ حولیًا أن یتم الحول علیہ وھو فی ملکہ لقولہ علیہ السلام لَا زکٰوۃ فی مال حتّی یحول علیہ الحول ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۱۹)۔ وإذا کان النصاب کاملًا فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذٰلک لَا یسقط الزکٰوۃ لأنہ یشق اعتبار الکمال فی أثنائہ اما لَا بد منہ فی إبتدائہ ۔۔۔ وفی انتھائہ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۹۶)۔

