زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
زکوٰۃسےملازمکوتنخواہدیناجائزنہیں،امدادکےلئےزکوٰۃدیناجائزہے
سوال:۔
میرے ہاں ایک ملازم ہے جس نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا، تو میں نے زکوٰۃ کی نیت سے اضافہ کردیا، اب وہ یہ سمجھتا ہے کہ تنخواہ میں اضافہ ہوا، اسی کے بدلے میں کام کر رہا ہوں، کیا اس طرح دی ہوئی میری زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟
جواب:۔
ملازم کی تنخواہ تو اس کے کام کا معاوضہ ہے، اور جب آپ نے تنخواہ بڑھانے کے نام پر اضافہ کیا تو وہ بھی کام کے معاوضے میں ہوا، اس لئے اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔(۱) جو تنخواہ اس کے ساتھ طے ہو وہ ادا کرنے کے علاوہ اگر اس کو ضرورت مند اور محتاج سمجھ کر زکوٰۃ دے دی جائے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۲)
- (۱) ولو نوی الزکٰوۃ بما یدفع المعلم إلی الخلیفۃ ولم یستأجرہ إن کان الخلیفۃ بحال لو لم یدفعہ یعلم الصبیان أیضًا أجزأہ وإلّا فلا وکذا ما یدفعہ إلی الخدم من الرجال والنساء فی الأعیاد وغیرھا بنیۃ الزکٰوۃ کذا فی معراج الدرایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف)۔
- (۲) ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحًا مکتسبًا۔ (عالمگیری ص:۱۸۹، فی المصارف)۔

