زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
قرضدیہوئیرقمپرزکوٰۃسالانہدیں،چاہےقرضکیوصولیپریکمشت
سوال:۔
میں نے کچھ رقم ایک دوست کو قرضِ حسنہ کے طور پر دی ہوئی ہے، کیا میں اس پر ہر سال زکوٰۃ دوں یا جب وہ وصول ہوجائے تب دوں؟ واضح ہو کہ رقم کو دئیے ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں، اور اب اس دوست کا کاروبار اچھا چل رہا ہے، میرے دو چار دفعہ مانگنے پر بھی اس نے رقم واپس نہیں کی، ٹال دیتا ہے کہ ابھی نہیں ہے، ایک بل پھنسا ہوا ہے جب مل گیا تو فوراً ادا کردوں گا۔
جواب:۔
اس قرض کی رقم پر زکوٰۃ تو آپ کے ذمہ ہر سال واجب ہے، البتہ یہ آپ کو اِختیار ہے کہ سال کے سال ادا کردیا کریں یا جب وہ قرض وصول ہو تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ وقت پر ادا کریں۔(۱)
- (۱) ولو کان الدین علٰی مقر ملیٔ أو علٰی معسر أو مفلس ۔۔۔ فوصل إلٰی ملکہ لزم زکٰوۃ ما مضٰی۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۷)۔ وفی خلاصۃ الفتاویٰ (ج:۱ ص:۲۳۸) الدیون علٰی ثلاث مراتب: قوی کالقرض وبدل مال التجارۃ وفیھما الزکٰوۃ وإنما یخاطب بالأداء ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۰۶، مطلب فی وجوب الزکاۃ فی دین المرصد)۔

