زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
زکوٰۃکیرقمسےجہیزخریدکردینا
سوال:۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری نند کی پانچ بیٹیاں ہیں، اور دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹی کی شادی ہوچکی ہے، دُوسری بیٹی کی شادی گزشتہ مہینے انجام پائی ہے، تین لڑکیاں باقی ہیں۔ لڑکیوں کے والد صاحب گھر میں ان کے کہنے کے مطابق بالکل خرچہ وغیرہ نہیں دیتے، بھائی ملازم پیشہ ہیں، والدہ بھی اکثر بیمار رہتی ہیں۔ سنا ہے کہ بھائی دو ہزار روپے ماہانہ دیتے ہیں۔ آج کل گو مہنگائی میں بیماری میں دو ہزار سے گزارہ مشکل ہے۔ لڑکیوں کی شادی میں جہیز وغیرہ دینے کے لئے مسئلہ پیدا ہوتا ہے، بھائی بہت معمولی قسم کا جہیز دینے کے لائق ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر بھی قرض دار ہیں، ان کی بھی اتنی حیثیت نہیں کہ ان کی مالی مدد کرسکیں۔ میں ٹیوشن پڑھاکر بی سی ڈال کر زکوٰۃ دیتی ہوں، کیونکہ میرے پاس میکے کا ملا ہوا زیور ہے، لہٰذا میں آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ اس سالانہ زکوٰۃ میں سے ان کی لڑکیوں کے جہیز کے لئے سالانہ کچھ رقم ان کو دے سکتی ہوں کہ نہیں؟ تاکہ وہ جہیز بناسکیں اپنی لڑکیوں کا۔ کہاں تک جائز ہے؟ مولانا صاحب! رمضان المبارک سے پہلے میرے خط کا جواب دیجئے، میں بہت شکرگزار ہوں گی۔ ویسے ایک بات اور عرض کردُوں کہ پہلی لڑکی کی شادی میں زکوٰۃ میں سے ان کو دو ہزار روپے دے چکی ہوں، میری وہ زکوٰۃ قبول ہوئی کہ نہیں؟ آپ میرے خط کا جواب ضرور دیں۔
جواب:۔
اگر ان لڑکیوں کے پاس اتنا سونا نہ ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے، تو ان کو جہیز کا سامان خرید کر دے سکتی ہیں، یا نقد پیسے دے سکتی ہیں کہ وہ جہیز خرید لیں۔(۱)
- (۱) المصارف ۔۔۔إلخ۔ (منھا الفقیر) وھو من لہ أدنٰی شیء وھو ما دون النصاب أو قدر النصاب غیر نام وھو مستغرق فی الحاجۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۷، الباب السابع فی المصارف)۔

