بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

زکوٰۃ‌اسکول‌کے‌بچوں‌پر‌خرچ‌کرنا

سوال:۔

ہماری جماعت اپنی برادری کی فلاح وبہبود کے لئے ممبران سے زکوٰۃ جمع کرتی ہے، تاکہ حق داروں میں تقسیم کی جاسکے، اس سلسلے میں کچھ سوالات ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں، جو اِختلاف کا سبب بھی بنتے ہیں۔

کیا زکوٰۃ کی رقم اسکول کے بچوں کی تعلیم ان کی کتابوں، یونیفارم اور بس کے کرائے کے لئے اِستعمال کی جاسکتی ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دُنیاوی تعلیم کے لئے زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی، جبکہ چند لوگ اس کا جواب دیتے ہیں کہ حدیث ہے کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، اور چین میں چونکہ اسلام، اسلامی حکومت نہ تھی، لہٰذا علم کے حوالے سے چین کا سفر دُنیاوی علم حاصل کرنے کے لئے ہی ہوگا۔ دُوسری بات یہ کہ غزوۂ بدر کے بعد قیدیوں کو رقم لے کر چھوڑ دِیا گیا تھا جبکہ وہ کافر قیدی جو تعلیم یافتہ تھے انہیں پابند کیا گیا کہ وہ مدینے کے دس بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کریں۔ اب مدینہ منوّرہ میں دِینی علم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہتر کون دے سکتا تھا! یہ کافر قیدی یقینا مدینے کے نومسلم لوگوں کے بچوں کو دُنیاوی علم ہی سے آراستہ کرنے پر مأمور ہوں گے۔

جواب:۔

زکوٰۃ کی رقم کا کسی مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے، اسکول کے بچے جو مسلمان ہوں اور مستحقِ زکوٰۃ بھی ہوں، ان کو دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۱) یہ الگ بحث ہے کہ زکوٰۃ کا مصرف اچھے سے اچھا تلاش کرنا چاہئے۔

یہ حدیث کہ علم حاصل کرو خواہ چین میں ہو، صحیح نہیں۔ علمِ حدیث کے ماہرین نے اس کو موضوع اور من گھڑت کہا ہے۔(۲)

کافر قیدیوں سے یہ شرط کرنا کہ وہ صحابہؓ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، اس سے آج کل کی اسکول اور کالجی تعلیم کا ذِکر کیسے نکل آیا؟ جو ۹۹ فیصد بچوں کو بے دِین بناتی ہے۔ اور یہ بچے نہ نماز کے رہتے ہیں، نہ دِین کے۔ دُنیاوی علم حاصل کرنا جائز بلکہ ضروری ہے، مگر شرط یہ ہے کہ پڑھنے والے بچوں کا دِین برباد نہ ہو۔ جو تعلیم مسلمان بچوں کو دِین سے بے بہرہ کرے، جائز نہیں، بلکہ حرام ہے اور اس کی اعانت کرنے والے فعلِ حرام کے مرتکب ہیں۔(۳)

  1. (۱) کتاب الزکٰوۃ: أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولَا مولَاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک عن کل وجہ ﷲ تعالٰی ھٰذا فی الشرع۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ، فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۲۵۷)۔
  2. (۲) اُطلبوا العلم ولو بالصّین ۔۔۔ قال ابن حبان: باطل لَا أصل لہ ۔۔۔إلخ۔ (اللّآلی المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ ج:۱ ص:۱۹۳، طبع دار الفکر بیروت)۔
  3. (۳) ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢