بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

قرض‌دی‌ہوئی‌رقم‌میں‌زکوٰۃ‌کی‌نیت‌کرنے‌سے‌زکوٰۃ‌ادا‌نہیں‌ہوتی

سوال:۔

ہم نے کسی غریب اور پریشان حال و ضرورت مند کی مالی مدد کی، اس نے اُدھار رقم مانگی تھی، اس کی خستہ حالی کے پیشِ نظر ہم نے مالی اعانت کی، اب وہ مقرّرہ میعاد میں قرض لی ہوئی رقم کو آج تک واپس نہیں کرسکا، نہ ہی صورت دِکھائی، اب کیا ہم اس کو قرض دی ہوئی رقم کو زکوٰۃ کی نیت کرکے چھوڑ دیں تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟ جبکہ ہم نے اسے رقم اُدھار دی تھی، تو زکوٰۃ کی نیت نہیں کی تھی، نہ ہی یہ خیال تھا کہ وہ رقم ہم کو واپس نہیں کرے گا اور ہضم کرجائے گا۔

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، کیونکہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت نیت کرنا شرط ہے۔(۱)

  1. (۱) وأما شرائط أدائھا فنیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب ھٰکذا فی الکنز۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰)۔ وفی الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۰: وشرط صحۃ أدائھا نیۃ مقارنۃ لہ أی للأداء ولو ۔۔۔ حکمًا ۔۔۔ أو مقارنۃ بعزل ما وجب کلہ أو بعضہ ولَا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالأداء للفقیر۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۰، کتاب الزکاۃ)۔