زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
زکوٰۃکیرقمسےمستحقینکےلئےکاروبارکرنا
سوال:۔
زکوٰۃ کی امداد کی تقسیم کے بارے میں ایک نظریہ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ رقم مستحقین کو دینے کے بجائے اس سے مستحقین کے حق میں کسی ذمہ دار فرد کی نگرانی میں صنعتی نوعیت کا کوئی کاروبار کردیا جائے تاکہ اس سے منافع حاصل ہو اور غرباء کو روزگار بھی فراہم کرکے مستحقین کو جلد یا بدیر انہیں صاحبِ نصاب لوگوں کے برابر لاکھڑا کیا جائے۔ جبکہ میں نے ایک دینی اور دُنیوی دونوں علوم میں کافی دسترس رکھنے والے گوشہ نشین بزرگ سے یہ سنا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مخیر افراد سے مستحقین کو براہِ راست ملنی چاہئے، کسی تیسرے فرد کو ان دونوں کے درمیان نہ تو حائل ہونے کی اجازت ہے اور نہ اس رقم کو مستحق آدمی کے پاس پہنچنے سے پہلے اس سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا اختیار ہے، خواہ وہ مستحقین کے حق میں ہی کیوں نہ ہو؟ ان دونوں نظریوں کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں ضروری وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
اس بزرگ کی یہ بات صحیح ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا جب تک کسی فقیر محتاج کو مالک نہیں بنادیا جائے گا، زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی،(۱) ا ن کو اس کا مالک بنادینے کے بعد اگر ان کی اجازت سے و توکیل سے ایسا کوئی انتظام کیا جائے جو آپ نے لکھا ہے، تو دُرست ہے۔
- (۱) أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولَا مولَاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ ﷲ تعالٰی ھٰذا فی الشرع، کذا فی التبیین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۰، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔

