بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

دُکان‌کی‌زکوٰۃ‌کس‌طرح‌ادا‌کی‌جائے؟

سوال:۔

میں ایک دُکان کا مالک ہوں، جو کہ آج سے تقریباً چار سال قبل ۲۰ ہزار روپے میں خریدی تھی، اور تقریباً ایک سال قبل میں نے اس میں ۵۰ ہزار روپے کا سامان خرید کر بھرا تھا، جس میں سے تقریباً ۲۰ہزار روپے کا سامان قرض لیا تھا جو اَب میں نے ادا کردیا ہے، اس دُکان سے مجھ کو جو آمدنی ہوتی ہے، میں وہ پوری دُکان میں ہی لگادیتا ہوں، مارکیٹ کے حساب سے میری دُکان کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے، اور اس میں جو سامان ہے اس کی قیمت بھی ۶۰ یا ۶۵ ہزار روپے بنتی ہے، ماہِ رمضان آنے والا ہے، آپ سے سوال یہ ہے کہ میں اس پر زکوٰۃ کس حساب سے ادا کروں؟ دُکان کی آمدنی سے میں کچھ خرچ نہیں کرتا۔

جواب:۔

دُکان میں جتنی مالیت کا سامان ہے اس کی قیمت لگاکر، آپ کے ذمہ اگر کچھ قرض ہو اس کو منہا کردیا جائے، اور باقی جتنی رقم بچے اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں ادا کردیا کریں، دُکان کی عمارت، باردانہ اور فرنیچر وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں، صرف قابلِ فروخت مال پر زکوٰۃ ہے۔(۱)

  1. (۱) الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت أی کائنۃ أی شیء یعنی من جنس ما تجب فیہ الزکٰوۃ کالسوائم أو غیرھا کالثیاب إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق أو الذھب ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۵، کتاب الزکاۃ)، وإن کان حالہ أکثر من دینہ زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا بالفراغ عن الحاجۃ الأصلیۃ والمراد بہ دین لہ مطالب من جھۃ العباد۔ (الھدایۃ مع شرح البنایۃ ج:۴ ص:۱۶، ۱۷)۔