زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
گزشتہسالوںکیزکوٰۃکیسےاداکریں؟
سوال:۔
میری شادی تیرہ سال پہلے ہوئی تھی، اس پر میں نے اپنی بیوی کو چھ تولہ سونا اور بیس تولہ چاندی تحفے کے طور پر دی تھی۔ الف: اس مالیت پر کتنی زکوٰۃ ہوگی؟ ب:دو سال بعد اس مالیت میں سونا ایک تولہ کم ہوگیا، یعنی بعد میں ۵ تولہ سونا اور ۲۰تولہ چاندی رہ گئی ہے، اس کو تقریباً گیارہ سال ہوگئے ہیں، جس کی کوئی زکوٰۃ نہیں دی گئی، اب اس کی کتنی زکوٰۃ دیں حساب کرکے بتائیں، اگر سونا دیں تو کتنا دینا ہے؟
سوال:۔
میری بہن کے پاس ۹تولہ سونا ہے اور ۲۰ تولے چاندی ہے، اور یہ سترہ سال سے ہے، آپ بتائیں کہ اس کو اب کتنی زکوٰۃ دینی ہے؟
جواب:۔
دونوں مسئلوں کا ایک ہی جواب ہے، آپ کی بیوی اور آپ کی بہن کی ملکیت میں جس تاریخ کو سونا اور چاندی آئے، ہر سال اس قمری تاریخ کو ان پر زکوٰۃ فرض ہوتی رہی،(۱) جو انہو ںنے ادا نہیں کی، اس لئے تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ان کے ذمہ لازم ہے۔(۲)
گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال سونے اور چاندی کی جو مقدار تھی اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دیا جائے، پھر دُوسرے سال اس چالیسویں حصے کی مقدار منہا کرکے باقی ماندہ کا چالیسواں حصہ نکالا جائے، اسی طرح سترہ سال کا حساب لگایا جائے، اور ان باقی تمام سالوں کی زکوٰۃ کا مجموعہ جتنی مقدار سونے اور چاندی کی بنے وہ زکوٰۃ میں ادا کردی جائے۔(۳) آپ کی بہن کے پاس سترہ سال پہلے ۹تولے سونا اور ۲۰ تولے چاندی تھی۔ میں نے سترہ سال کی زکوٰۃ کا حساب لگایا تو سونے کی زکوٰۃ کی مجموعی مقدار ۷ء۳۶ گرام بنی، اور چاندی کی زکوٰۃ کی مجموعی مقدار ۶۰۱ء۸۱ گرام بنی، لہٰذا ۹تولے سونے اور ۲۰تولے چاندی کی زکوٰۃ میں مندرجہ بالا مقدار کا ادا کرنا آپ کی بہن کے ذمہ لازم ہے، اور آپ کی بیوی کے ذمہ گیارہ سال کی زکوٰۃ میں ۷۹۵ء۱۴ گرام سونا اور ۵۰۹ء۲۵ گرام چاندی کا ادا کرنا لازم ہے۔
- (۱) وشرطہ أی شرط إفتراض أدائھا حولَان الحول وھو فی ملکہ وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر لتعیینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکٰوۃ کیفما أمسکھما ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الشامی ج:۲ ص:۲۶۷)۔
- (۲) ۔۔۔ وفی القنیۃ العبرۃ فی الزکاۃ للحول القمری۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۱۹، کتاب الزکاۃ)۔
- (۳) وذکر فی المنتقی: رجل لہ ثلث مأۃ درھم دین حال علیھا ثلاثۃ أحوال فقبض مائتین، فعند أبی حنیفۃ یزکی للسنۃ الأولٰی خمسۃ وللثانیۃ والثالثۃ أربعۃ أربعۃ من مأۃ وستین ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۳۰۵، کتاب الزکاۃ)۔

