زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
گزشتہسالوںکیزکوٰۃ
سوال:۔
ایک شخص پر زکوٰۃ واجب ہے، لیکن وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، کچھ عرصے کے بعد وہ خدا کے حضور توبہ اِستغفار کرتا ہے، اور آئندہ زکوٰۃ ادا کرنے کا اپنے خدا سے وعدہ کرتا ہے، پچھلی زکوٰۃ کے بارے میں اس پر کیا حکم ہے؟ کیا وہ پچھلی زکوٰۃ بھی ادا کرے؟ مثلاً: دس سال تک زکوٰۃ ادا نہیں کی جبکہ اس کے پاس ذاتی مکان بھی نہیں ہے، اور تنخواہ بھی صرف گزارے کی ہو، ایسے شخص کے لئے زکوٰۃ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
نماز، زکوٰۃ، روزہ سب کا ایک ہی حکم ہے، اگر کوئی شخص غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ان فرائض کو چھوڑتا رہا تو صرف توبہ، اِستغفار سے یہ فرائض معاف نہیں ہوں گے، بلکہ حساب کرکے جتنے سالوں کی نمازیں اس کے ذمہ ہیں، تھوڑی تھوڑی کرکے ادا کرنا شروع کردے، مثلاً: ہر نماز کے ساتھ ایک نماز قضا کرلیا کرے، بلکہ نفلوں کی جگہ بھی قضا نمازیں پڑھا کرے، یہاں تک کہ گزشتہ سالوں کی ساری نمازیں پوری ہوجائیں، اسی طرح زکوٰۃ کا حساب کرکے وقتاً فوقتاً ادا کرتا رہے، یہاں تک کہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ پوری ہوجائے، اسی طرح روزے کا حکم سمجھ لیا جائے، الغرض ان قضاشدہ فرائض کا ادا کرنا بھی ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ ادا فرض کا۔(۱)
- (۱) باب قضاء الفوائت (القضا لغۃ الأحکام) ۔۔۔ الأولٰی ان یقول (اسقاط الحکم الواجب بمثل ما عندہ) إعلم ان القضاء وجب بالسبب الذی وجب بہ الأداء فکل من الأداء والقضاء تسلیم عین الواجب إلّا ان الأداء تسلیم عن الواجب فی وقتہ والقضاء تسلیم عین الواجب بعد خروج الوقت وھٰذا ھو الراجح ۔۔۔ والتأخیر بلا عذر کبیرۃ لَا تزول بالقضاء بل بالتوبۃ ۔۔۔ وأفاد بذکرہ الترتیب فی الفوائت والوقتیۃ لزوم القضاء وھو ما علیہ الجمھور۔ (حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح، باب قضاء الفوائت ص:۲۳۹ طبع میر محمد کتب خانہ، وأیضًا تیسیر الوصول إلٰی علم الأصول ص:۴۰)۔

