بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

تھوڑی‌تھوڑی‌زکوٰۃ‌دینا

سوال:۔

اگر کوئی عورت اپنی کل رقم یا سونا جو اس کے پاس ہے اس پر سالانہ زکوٰۃ نہ نکالتی ہو، بلکہ ہر مہینہ کچھ نہ کچھ کسی ضرورت مند کو دے دیتی ہو، کبھی نقد رقم، کبھی اناج وغیرہ اور وہ اس کا حساب بھی اپنے پاس نہ رکھتی ہو تو اس کا ایسا کرنا زکوٰۃ دینے میں شمار ہوگا یا نہیں؟

سوال:۔

اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ سال کے آخر میں زکوٰۃ ادا کرنے کے بجائے ہر ماہ کچھ رقم زکوٰۃ کے طور پر نکالتا رہے تو کیا یہ عمل دُرست ہے؟ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ اس طرح زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، اس طرح صدقہ نکالنا چاہئے۔

سوال:۔

عرض ہے کہ میرا وسیع کاروبار ہے، لیکن میں جو سالانہ زکوٰۃ حساب کرکے آہستہ آہستہ مختلف مدارس یا غرباء میں تقریباً آٹھ نو مہینوں میں زکوٰۃ ادا کردیتا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ زکوٰۃ رمضان کے ماہ میں پوری پوری ادا کردینی چاہئے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل بتائیں کہ زکوٰۃ کی رقم کس ماہ میں یا پھر آہستہ آہستہ دے دیں تو کوئی حرج تو نہیں؟ تفصیل کے ساتھ لکھیں۔

سوال:۔

اگر کوئی زکوٰۃ مہینہ وار قسطوں میں ادا کرنا چاہتا ہے تو دو صورتیں ہوسکتی ہیں، فرض کریں وہ پچھلی زکوٰۃ ادا کرچکا ہے، اب اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ ۱:پہلی صورت میں وہ ایک سال گزرنے کے بعد حساب لگائے کہ اس پر کتنی زکوٰۃ فرض ہوئی ہے، اور اس رقم کو مہینہ وار قسطوں میں ادا کرنا شروع کردے، لیکن اگر اس دوران وہ مرگیا تو زکوٰۃ کا بوجھ اس پر رہ جائے گا۔ ۲:دُوسری صورت میں وہ حساب لگائے کہ سال کے آخر تک اس پر کتنی زکوٰۃ فرض ہوجائے گی اور قسط وار ادا کرنا شروع کردے جو کمی بیشی ہو وہ آخر مہینے میں برابر کرے، ایسی صورت میں جب وہ مرے گا تو اس پر زکوٰۃ کا بوجھ نہیں ہوگا، لیکن کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

سوال:۔

میں نے رمضان کے مہینے میں جتنی زکوٰۃ نکلتی تھی، وہ رقم الگ کرکے رکھ دی، اب ایک دو گھروں کو جن کو میں زکوٰۃ دینا چاہتا ہوں ان کو ہر مہینے اس میں سے نکال کر دے دیتا ہوں، کیونکہ اگر ایک ساتھ دے دئیے جائیں تو یہ لوگ خرچ کردیتے ہیں اور پھر پریشان رہتے ہیں۔ آپ شرعی نقطۂ نظر سے بتادیجئے کہ میرا یہ فعل دُرست ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں ایڈوانس زکوٰۃ دینے کے متعلق بھی بتادیں تو عنایت ہوگی۔

جواب:۔

زکوٰۃ کی نیت سے جو کچھ دیتی ہے اتنی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۱) لیکن یہ کیسے معلوم ہوگا کہ اس کی زکوٰۃ پوری ہوگئی یا نہیں؟ اس لئے حساب کرکے جتنی زکوٰۃ نکلتی ہو وہ ادا کرنی چاہئے، البتہ یہ اختیار ہے کہ اکٹھی دے دی جائے یا تھوڑی تھوڑی کرکے سال بھر میں ادا کردی جائے، مگر حساب رکھنا چاہئے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہے، جو چیز زکوٰۃ کی نیت سے نہ دی جائے اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ البتہ اگر زکوٰۃ کی نیت کرکے کچھ رقم الگ رکھ لی، اور پھر اس میں سے وقتاً فوقتاً دیتے رہے، تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۲)

جواب:۔

ہر مہینے تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ نکالتے رہنا دُرست ہے۔(۳)

جواب:۔

آپ جب سے صاحبِ نصاب ہوئے اس تاریخ (قمری تاریخ مراد ہے) کے آنے پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے،(۴) خواہ وہ رمضان ہو یا محرّم۔ بہتر تو یہی ہے کہ حساب کرکے زکوٰۃ کی رقم الگ کرلی جائے، لیکن اگر تھوڑی تھوڑی کرکے سال بھر میں ادا کی جائے تب بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، اور جب سال شروع ہو اسی وقت سے تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ پیشگی ادا کرتے رہیں، تو یہ بھی دُرست ہے۔(۵) تاکہ سال کے ختم ہونے پر زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے۔ بہرحال جتنی مقدار زکوٰۃ کی واجب ہو اس کا ادا ہوجانا ضروری ہے۔

جواب:۔

پیشگی زکوٰۃ دینا صحیح ہے، اس لئے اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۶)

جواب:۔

آپ کا یہ فعل دُرست ہے کہ زکوٰۃ کی رقم نکال کر الگ رکھے، اور حسبِ موقع نکالتا رہے۔(۷) اور جو شخص صاحبِ نصاب ہو اگر وہ سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ ادا کردے یا کئی سال کی پیشگی زکوٰۃ ادا کردے تو یہ بھی جائز ہے۔(۸)

  1. (۱) وشرط صحۃ أدائھا نیۃ مقارنۃ لہ أی للأداء ولو ۔۔۔ حکمًا ۔۔۔ أو مقارنۃ بعزل ما وجب کلہ أو بعضہ ولَا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالأداء للفقراء۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۷۰، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) وأما شرط أدائھا فنیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب، فإذا نوی أن یؤدی الزکٰوۃ ولم یعزل شیئًا فجعل یتصدق شیئًا فشیئًا إلٰی آخر السنۃ ولم تحضرہ النیۃ لم یجز عن الزکٰوۃ کذا فی التبیین۔ إذا کان فی وقت التصدق بحال لو سئل عمّا إذا تؤدی یمکنہ أن یجیب من غیر فکرۃ فذٰلک یکون نیۃ منہ ولو قال ما تصدقت إلٰی آخر السنۃ فقد نویت عن الزکٰوۃ لم یجز کذا فی السراجیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔
  3. (۳) وأما شرط أدائھا فنیۃ مقارنۃ للأداء أو لعزل ما وجب، فإذا نوی أن یؤدی الزکٰوۃ ولم یعزل شیئًا فجعل یتصدق شیئًا فشیئًا إلٰی آخر السنۃ ولم تحضرہ النیۃ لم یجز عن الزکٰوۃ کذا فی التبیین۔ إذا کان فی وقت التصدق بحال لو سئل عمّا إذا تؤدی یمکنہ أن یجیب من غیر فکرۃ فذٰلک یکون نیۃ منہ ولو قال ما تصدقت إلٰی آخر السنۃ فقد نویت عن الزکٰوۃ لم یجز کذا فی السراجیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔
  4. (۴) والمراد بکونہ حولیا ان یتم الحول علیہ وھو فی ملکہ ۔۔۔ وفی القنیۃ العبرۃ فی الزکٰوۃ للحول القمری۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۱۹، کتاب الزکاۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
  5. (۵) ولو عجل ذو نصاب زکٰوتہ لسنین أو نصب صح لوجود السبب (درمختار) قولہ وکذا لو عجل ۔۔۔ وھی التعجیل لسنۃ أو لسنین لأنہ إذا ملک نصابًا وأخرج زکٰوتہ قبل أن یحول الحول کان ذٰلک تعجیلًا بعد وجود السبب ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۹۳، ایضًا خلاصۃ الفتاویٰ ج:۱ ص:۲۴۱)۔
  6. (۶) ایضاً حوالہ بالا۔
  7. (۷) ولو عجل ذو نصاب زکٰوتہ لسنین أو نصب صح لوجود السبب (درمختار) قولہ وکذا لو عجل ۔۔۔ وھی التعجیل لسنۃ أو لسنین لأنہ إذا ملک نصابًا وأخرج زکٰوتہ قبل أن یحول الحول کان ذٰلک تعجیلًا بعد وجود السبب ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۹۳، ایضًا خلاصۃ الفتاویٰ ج:۱ ص:۲۴۱)۔
  8. (۸) گذشته حاشيه: ولو عجل ذو نصاب...الخ