زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
زکوٰۃکیتشہیر
سوال:۔
’’جنگ‘‘ میں ایک فوٹو شائع ہوا ہے کہ بیواؤں میں مشینیں تقسیم کر رہے ہیں، زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین ہیں، کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے کہ اس طرح زکوٰۃ کی تشہیر کی جائے؟
جواب:۔
فوٹو چھاپنا تو آج کل نمائش اور ریاکاری کا محبوب مشغلہ ہے، جن بیواؤں کو سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں اگر وہ زکوٰۃ کی مستحق تھیں تو زکوٰۃ ادا ہوگئی، ورنہ نہیں۔(۱) زکوٰۃ کی تشہیر اس نیت سے تو دُرست ہے کہ اس سے زکوٰۃ دہندگان کو ترغیب ہو، اور ریاکاری اور نمود و نمائش کی غرض سے زکوٰۃ کی تشہیر جائز نہیں،(۲) بلکہ اس سے ثواب باطل ہوجاتا ہے۔
- (۱) ﵟ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ ﵞ التوبة ٦٠۔ أیضًا: أما تفسیرھا فھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولَا مولَاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ ﷲ تعالٰی۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۱۷۰)۔
- (۲) إذا أراد الرجل أداء الزکٰوۃ الواجبۃ قالوا الأفضل الْإعلان والْإظھار وفی التطوعات الأفضل ھو الْإخفاء والْإسرار۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱)۔ إذا أراد الرجل أداء الزکٰوۃ فالأفضل ھو الْإظھار وفی التطوع الْإخفاء۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، کتاب الزکاۃ، الفصل الثامن فی أداء الزکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۱، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

