زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
صاحبِمالکےحکمکےبغیر،وکیلزکوٰۃادانہیںکرسکتا
سوال:۔
ایک صاحبِ زکوٰۃ نے اپنی زکوٰۃ کے پیسہ کا کسی کو وکیل نہیں بنایا اور دُوسرا کوئی صاحبِ مال کی اجازت کے بغیر ادا کردے تو ادا ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔
اگر دُوسرا آدمی، صاحبِ مال کے حکم یا اجازت سے اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ورنہ نہیں۔(۱)
- (۱) وشرط صحۃ أدائھا نیۃ مقارنۃ لہ ۔۔۔ أو نوی عند الدفع للوکیل ثم دفع الوکیل بلا نیۃ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۲۶۸)۔ رجل أدی زکٰوۃ غیرہ عن مال ذٰلک الغیر فأجازہ المالک فإن کان المال قائمًا فی ید الفقیر جاز وإلّا فلا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۱، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا)۔

