بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌ادا‌کرنے‌کا‌طریقہ

بغیر‌بتائے‌زکوٰۃ‌دینا

سوال:۔

معاشرے میں بہت اصحاب ایسے ہیں جو زکوٰۃ لینا باعثِ شرم سمجھتے ہیں، اگرچہ یہ نظریہ غلط ہے، تو کیا ایسے اصحاب کو بغیر بتائے اس مد میں سے کسی دُوسرے طریقے سے ادا کی جاسکتی ہے؟ مثلاً: ان کے بچوں کے کپڑے بنوادئیے جائیں، ان کے بچوں کی تعلیم میں امداد کی جائے، اس صورت میں جبکہ زکوٰۃ دینے والے پر اور رقم ممکن نہ ہو۔

سوال:۔

کسی دوست احباب کی ہم زکوٰۃ کی رقم سے مدد کریں اور اس کو احساس ہوجانے کی وجہ سے ہم بتائیں نہیں، تو زکوٰۃ ہوجائے گی؟

جواب:۔

زکوٰۃ دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے، ہدیہ یا تحفہ کے عنوان سے ادا کی جائے اور ادا کرتے وقت نیت زکوٰۃ کی کرلی جائے، تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۱)

جواب:۔

مستحق کو یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے، اسے کسی بھی عنوان سے زکوٰۃ دے دی جائے اور نیت زکوٰۃ کی کرلی جائے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔(۲)

  1. (۱) وشرط صحۃ أدائھا نیۃ مقارنۃ لہ أی للأداء ۔۔۔إلخ۔ وفی شرحہ: قولہ نیۃ أشار إلٰی أنہ لَا إعتبار للتسمیۃ فلو سماھا ھبۃ أو قرضًا تجزیہ فی الأصح۔ (شامی ج:۲ ص:۲۶۸، کتاب الزکاۃ)۔
  2. (۲) وشرط صحۃ أدائھا نیۃ مقارنۃ لہ أی للأداء ۔۔۔إلخ۔ وفی شرحہ: قولہ نیۃ أشار إلٰی أنہ لَا إعتبار للتسمیۃ فلو سماھا ھبۃ أو قرضًا تجزیہ فی الأصح۔ (شامی ج:۲ ص:۲۶۸، کتاب الزکاۃ)۔