زکوٰۃاداکرنےکاطریقہ
ایکشخصکوکتنیزکوٰۃدیجاسکتیہے؟
سوال:۔
ایک شخص کو زیادہ سے زیادہ کتنی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ ساڑھے باون تولے چاندی اور ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت میں بہت فرق ہے، چاندی کے حساب سے ۵,۵۰۰ روپے نصاب، اور سونے کے حساب سے ۴۰,۰۰۰ روپے نصاب بنتا ہے، فی زمانہ ۵,۵۰۰ روپے کی کیا حیثیت ہے۔ ایک غریب آدمی صاحبِ اولاد کو کس طرح رقم دیں؟ کیونکہ اگر دو تین ہزار ایک ساتھ دیں تو بمشکل ایک دو ماہ کا گزارہ ہوگا، اور اگر زیادہ دیں تو وہ صاحبِ نصاب بن جائے گا۔ نیز گائے یا بھینس کا نصاب ۳۰ مقرّر ہے، کیا ایک صاحبِ نصاب آدمی کے پاس ۵ یا ۷ بھینسیں ہوں تو وہ زکوٰۃ دے گا؟ جس طرح سونے چاندی اور نقدی سب کی کل قیمت ملاکر آدمی صاحبِ نصاب ہوجاتا ہے، اس طرح کسی جگہ اس کا ذِکر نہیں آتا سونے اور چاندی کے ساتھ گائے اور بھینس کی قیمت ملاکر نصاب مکمل کیا جائے۔
جواب:۔
سونے اور چاندی کی قیمت میں فرق کی وجہ سے ایسا ہوسکتا ہے کہ سونے کا نصاب نہ بنے اور چاندی کا نصاب بن جائے، بہرحال اگر چاندی کا نصاب بن جائے تو آدمی صاحبِ نصاب ہوگا اور زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اگر اس سے کم ہو تو زکوٰۃ اس کو لینا جائز ہے۔ گائے اور بھینس ہمارے یہاں اتنی نہیں ہوتیں کہ ان پر زکوٰۃ واجب ہوسکے۔(۱)
- (۱) وتضم قیمۃ العروض إلی الثمنین والذھب إلی الفضۃ قیمۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۹)۔ الزکٰوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃً ما کانت أی کائنۃً أیّ شیء ۔۔۔ إذا بلغت قیمتھا نصابًا من الورق أو الذھب یقومھا صاحبھا بما ھو أنفع للفقراء والمساکین منھما أی النصابین إحتیاطًا لحق الفقراء، حتّی لو وجبت الزکٰوۃ إن قومت بأحدھما دون الآخر قومت بما تجب فیہ دون الآخر ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۴۵، کتاب الزکاۃ، طبع قدیمی)۔

