زکوٰۃکانصاباورشرائط
ٹیکسیکےذریعہکرایہکیکمائیپرزکوٰۃہے،ٹیکسیپرنہیں
سوال:۔
ایک شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے، اس سے وہ ایک ٹیکسی خریدتا ہے، ایک سال بعد چالیس ہزار روپیہ کمائی ہوگئی، اب زکوٰۃ کتنی رقم پر دے؟
سوال:۔
ایک ٹیکسی ہم نے ۴۸ہزار کی لی تھی، مالک کو قسطوں کے ذریعہ ہم روپے دے چکے ہیں، پھر یہ ٹیکسی ہم نے ۵۵ہزار روپے میں فروخت کردی، جس میں ہم نے دس ہزار روپے نقد لئے اور ڈیڑھ ہزار روپے قسط ہم ان سے لے رہے ہیں، تقریباً ۳۲ہزار روپے ہم وصول کرچکے ہیں اور ۱۳ہزار روپے باقی ہیں۔ اس پہلے والی ٹیکسی کو فروخت کرکے ویسی ہی دُوسری ٹیکسی اٹھانوے ہزار پانچ سو (۹۸۵۰۰) روپے کی اُدھار لی، تین ہزار روپے قسط وار دیتے ہیں، ڈیڑھ ہزار روپے پہلے والی ٹیکسی کے اور ڈیڑھ ہزار اس نئی ٹیکسی پر کماتے ہیں اور قسط دیتے ہیں، اس ٹیکسی کے ۷۰ہزار روپے کا حساب یعنی زکوٰۃ ہم کس طرح ادا کریں اور یہ کہ کتنے روپے ہمیں زکوٰۃ کے دینے ہوں گے؟
جواب:۔
اگر گاڑی فروخت کی نیت سے نہیں خریدی، بلکہ کمائی کے لئے خریدی ہے تو سال کے بعد صرف چالیس ہزار کی زکوٰۃ دیں گے، گاڑی کمانے کا ذریعہ ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔(۱)
اور اگر اس شخص کے پاس گاڑی کی کمائی کے علاوہ کچھ روپیہ پیسہ یا زیور نہ ہو تو اس کی زکوٰۃ کا سال اس دن سے شروع ہوگا جس دن گاڑی کی کمائی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ گئی تھی۔(۲)
جواب:۔
ان گاڑیوں سے جو منافع حاصل ہوجائے اور حدِ نصاب تک پہنچ جائے، تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ آئے گی،(۳) صرف گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں آئے گی، کیونکہ یہ حصولِ نفع کے آلات ہیں، ان پر زکوٰۃ نہیں آتی۔(۴) لیکن یہ خیال رہے کہ بعض لوگ گاڑی اسی نیت سے خریدتے ہیں کہ جونہی اس کے اچھے دام ملیں گے اس کو فروخت کردیں گے، اور یہ ان کا گویا باقاعدہ کاروبار ہے، ایسی گاڑی درحقیقت مالِ تجارت ہے، اور اس کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے۔(۵)
- (۱) وأصل ھٰذا أنہ لیس علی التاجر زکٰوۃ فی مسکنہ وخدمہ ومرکبہ وکسوتہ ۔۔۔ أو متاع لم ینو بہ التجارۃ ۔۔۔إلخ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، الفصل الخامس فی زکٰوۃ المال ج:۱ ص:۲۳۷)۔ ولیس فی دور السکنی وثیاب البدن وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الْإستعمال زکٰوۃ لأنھا مشغول بالحاجۃ الأصلیۃ والحاجۃ الأصلیۃ ما یدفع الھلاک عن الْإنسان تحقیقًا أو تقدیرًا۔ (البنایۃ فی شرح الھدایۃ ج:۴ ص:۱۹، کتاب الزکاۃ)۔
- (۲) وتعتبر القیمۃ عند حولَان الحول بعد أن تکون قیمتھا فی إبتداء الحول مائتی درھم من الدراھم الغالب علیھا الفضۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۱۷۹، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب، الفصل الثانی فی العروض)۔
- (۳) لَابُد من ملک مقدار النصاب لأنہ صلی اللہ علیہ وسلم قدر السبب بہ ولَابُد من الحول لأنہ لَابُد من مدۃ یتحقق فیھا النماء وقدرھا الشارع بالحول لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم لَا زکٰوۃ فی مال حتّی یحال علیہ الحول۔ (الھدایۃ مع شرحہ البنایۃ ج:۴ ص:۸)۔
- (۴) وأصل ھٰذا أنہ لیس علی التاجر زکٰوۃ فی مسکنہ وخدمہ ومرکبہ وکسوتہ ۔۔۔ أو متاع لم ینو بہ التجارۃ ۔۔۔إلخ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، الفصل الخامس فی زکٰوۃ المال ج:۱ ص:۲۳۷)۔ ولیس فی دور السکنی وثیاب البدن وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الْإستعمال زکٰوۃ لأنھا مشغول بالحاجۃ الأصلیۃ والحاجۃ الأصلیۃ ما یدفع الھلاک عن الْإنسان تحقیقًا أو تقدیرًا۔ (البنایۃ فی شرح الھدایۃ ج:۴ ص:۱۹، کتاب الزکاۃ)۔
- (۵) وما اشتراہ لھا أی للتجارۃ کان لھا لمقارنۃ النیۃ لعقد التجارۃ ۔۔۔إلخ۔ لأن الشرط فی التجارۃ مقارنتھا لعقدھا وھو کسب المال بالمال بعقد شراء ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۷۲، کتاب الزکاۃ)۔

