زکوٰۃکانصاباورشرائط
مقروضکودیہوئیرقمپرزکوٰۃواجبہے،اورزکوٰۃمیںقیمتیکپڑےدےسکتےہیں
سوال:۔
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے گھر خرچ میں سے بچا بچا کر پانچ ہزار روپے جمع کئے ہیں، اور ان میں سے چھ سو روپے تو ایک کو قرض دے دئیے، دو سال ہوگئے اس نے آج تک واپس نہیں کئے ہیں، اور نہ ہی ابھی واپس کرنے کا کوئی ارادہ ہے، باقی رقم بھی کسی ضرورت مند نے مانگی تو میں نے اسے دے دی، اسے بھی ایک سال ہوگیا ہے، اس نے بھی واپس نہیں دی۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس رقم پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی یا نہیں؟ جواب ضرور دیں۔ اور جو کپڑے میں نے اپنے پہننے کے لئے بنائے ہیں، وہ کپڑے زکوٰۃ میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
جو رقم کسی کو قرض دے رکھی ہو اس کی زکوٰۃ ہر سال ادا کرنا ضروری ہے، خواہ رقم کی واپسی سے پہلے ہر سال دیتے رہیں یا رقم وصول ہونے کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ یکمشت ادا کریں۔(۱) کپڑوں کی قیمت لگاکر ان کو زکوٰۃ میں دے سکتے ہیں،(۲) لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ کپڑے لائقِ استعمال نہ رہنے کی وجہ سے آپ کے دِل سے اُتر گئے ہوں اور آپ سوچیں کہ چلو ان کو زکوٰۃ ہی میں دے ڈالو۔(۳)
- (۱) الدیون علٰی ثلاث مراتب: قوی کالقرض وبدل مال التجارۃ وفیھما الزکٰوۃ وإنما یخاطب بالأداء إذا قبض أربعین منھا ۔۔۔إلخ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۱ ص:۲۳۸، وأیضًا فی الدر المختار ج:۲ ص:۳۰۵، مطلب فی وجوب الزکاۃ فی دین المرصد)۔
- (۲) المال الذی تجب فیہ الزکٰوۃ إن أدی زکٰوتہ من خلاف جنسہ أدی قدر قیمۃ الواجب إجماعًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۰، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی زکاۃ الذھب، الفصل الثانی فی العروض)۔
- (۳) قَالَ تَعَالَى ﵟ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ ﵞ البقرة ٢٦٧

