بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

بینک‌جو‌زکوٰۃ‌کاٹتا‌ہے‌اس‌کا‌انکم‌ٹیکس‌سے‌کوئی‌تعلق‌نہیں

سوال:۔

ایک شخص کے پاس گھر میں دس ہزار ہیں، بینک میں بھی دس ہزار ہیں، بینک کی رقم سے حکومت زکوٰۃ کاٹتی ہے، اور وہ شخص انکم ٹیکس بھی ادا کرتا ہے، تو کیا وہ رقم جو بینک میں جمع ہے اس پر زکوٰۃ دوبارہ دے گا جبکہ انکم ٹیکس بھی حکومت کو دینا ہے یا صرف وہ رقم جو اس کے گھر میں موجود ہے، صرف اس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟

جواب:۔

بینک جو زکوٰۃ کاٹتا ہے، بعض اہلِ علم کے نزدیک زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے،(۱) اور حکومت کو جو انکم ٹیکس دینا ہے اتنی مقدار کو چھوڑ کر باقی رقم کی زکوٰۃ ادا کردی جائے۔(۲)

  1. (۱) وأما أخذا ظلمۃ زماننا من الصدقات والعشر والخراج والجبایات والمصادرات فالأصح أنہ یسقط جمیع ذٰلک عن أرباب الأموال إذا نووا عند الدفع التصدق علیھم کذا فی التتارخانیۃ فی الفصل الثامن من الزکٰوۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۰، الباب السابع فی المصارف)۔
  2. (۲) وإن کان مالہ أکثر من دَینہ زکی الفاضل إذا بلغ نصابًا ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۸۶، کتاب الزکاۃ)۔