زکوٰۃکانصاباورشرائط
تجارتیکمپنیوںمیںپھنسیہوئیرقومپرزکوٰۃکاحکم
سوال:۔
علمائے کرام سے سنتے ہیں کہ قرضہ پر زکوٰۃ فرض ہے۔ گزارش یہ ہے کہ ایک مسلمان کا اگر کسی پر دس ہزار یا کم و بیش قرضہ ہو تو زکوٰۃ وصول ہونے پر ادا کرنے کا حکم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان کی اگر ساری جمع پونجی قرضہ میں ہو اور اس کا ملنا بھی دُشوار ہو، جس کی کراچی میں کوآپریٹو اسکینڈل ۔۔۔ زندہ مثال موجود ہے کہ نہ تو جن بھائیوں کی رقمیں پھنس گئی ہیں ان کے ملنے کی اُمید ہے اور نہ ہی وہ نااُمید ہوکر صبر کرسکتے ہیں، لہٰذا اب اگر ایک مسلمان کو اپنے قرضہ والی رقم چالیس سال تک نہیں ملتی تو ۴۰ سال اور بعد میں اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیونکہ اس طرح اڑھائی فیصد کے حساب سے تو زکوٰۃ کی مد میں جتنی بھی رقم لوگوں پر قرض ہو وہ زکوٰۃ کی مد میں منہا ہوکر ختم ہوجائے گی۔ اب اگر چالیس سال بعد بھی رقم نہیں ملتی تو کیا ۴۰ سال میں مذکورہ رقم جو زکوٰۃ کی مد میں ختم ہوچکی ہے زکوٰۃ میں منہا سمجھی جائے گی اور ۴۰ سال کے بجائے اگر ۵۴ سال کے بعد یہ رقم مل جائے تو کیا کرنا ہوگا؟ ذرا تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
جواب:۔
ان تجارتی کمپنیوں میں لوگوں کی جو رقمیں پھنسی ہوئی ہیں ان کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ اس کو سمجھنے سے پہلے اس پر غور کرلینا مناسب ہوگا کہ شرعی نقطۂ نظر سے ان رُقوم کی نوعیت کیا ہے؟
یہ بات تو ہر خاص و عام کو معلوم ہے کہ جن لوگوں نے ان کمپنیوں میں اپنی پونجی جمع کرائی تھی یہ رقمیں ان کمپنیوں کو بطور قرض کے نہیں دی تھیں بلکہ کاروبار میں شراکت اور منافع میں حصہ داری کے لئے دی تھیں۔ چنانچہ ان کمپنیوں نے ان رُقوم کو کاروبار میں لگایا اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں ان رقموں کے مالکان کو شریک کیا۔
ان میں سے بعض کمپنیوں کے بارے میں لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ شریعت کے اُصول مضاربت کے مطابق ان رُقوم سے کاروبار کرتی ہیں، اور شریعت کے مطابق کھاتہ داروں کو منافع کا حصہ تقسیم کرتی ہیں۔ انہوں نے بعض لائقِ اعتماد اہلِ علم سے شرعی اُصول مضاربت کے مطابق کام کرنے کا مکمل خاکہ تیار کرایا، اس کے اُصول و قواعد وضع کئے اور پھر اس مرتب نقشے کے مطابق کاروبار شروع کیا اور یہ حضرات شدّت کے ساتھ اس اَمر کا لحاظ رکھتے تھے کہ کاروبار میں بھی اور منافع کی تقسیم میں بھی کوئی بات شریعت کے خلاف نہ ہونے پائے۔
الغرض! ایسی کمپنیاں جو کھاتہ داروں کے روپے سے شریعت کے اُصول مضاربت کے مطابق کام کرتی تھیں جو رقمیں ان کو دی گئیں وہ قرض نہیں بلکہ ان کے ہاتھ میں امانت تھیں، اور یہ لوگ کھاتہ داروں کی جانب سے کاروبار کرنے کے لئے وکیل تھے اور ان کے ساتھ نفع میں شریک تھے، چنانچہ حضراتِ فقہاءؒ لکھتے ہیں:
’’مضارب، کام شروع کرنے سے پہلے رأس المال کی رقم کا امین ہوتا ہے، کام شروع کرنے کے بعد وہ اس کی جانب سے وکیل بن جاتا ہے، اور نفع حاصل ہوجانے کے بعد وہ اس کے ساتھ منافع میں شریک ہوجاتا ہے۔‘‘(۱)
یہ کمپنیاں اپنے مرتب کردہ نقشے کے مطابق کاروبار کر رہی تھیں اور کھاتہ داروں کو بالالتزام منافع تقسیم کر رہی تھیں کہ یکایک حکومت نے ان کی تمام املاک پر قبضہ کرکے ان کو کاروبار کرنے سے روک دیا، وہ دن اور آج کا دن کہ یہ تمام املاک اور اثاثے حکومت کے قبضہ و تحویل میں ہیں، ان کمپنیوں کے مالکان نے ہرچند حکومت سے اپیلیں کیں کہ حکومت ہمیں اپنی نگرانی میں کاروبار کی اجازت دیدے اور ہم سے ایک ایک پیسے کا حساب لے، یا کم از کم ہمیں اپنے املاک اور اثاثوں کو فروخت کرنے ہی کی اجازت دی جائے تاکہ ہم متأثرین کو ان کی رقمیں لوٹانے کے قابل ہوسکیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ آیا کھاتہ داروں کی طرف سے حکومت کے سامنے ان کمپنیوں کی بدعنوانی کی کوئی شکایت آئی تھی؟ اور انہوں نے حکومت سے مداخلت کی کوئی درخواست کی تھی؟ یا حکومت نے اسکینڈل بناکر ان کمپنیوں پر جبری قبضہ کرلیا؟
جہاں تک کھاتہ داروں کا تعلق ہے ان کی طرف سے ایسی کوئی شکایت منظرِ عام پر نہیں آئی، اور نہ یہ کہ انہوں نے حکومت سے مداخلت کی کوئی درخواست کی ہو، بلکہ اس کے برعکس ان کمپنیوں پر عوام کا اعتماد روز بروز بڑھ رہا تھا اور لوگ سرکاری اداروں اور بینکوں سے رُقوم نکال کر ان نجی تجارتی اداروں میں اپنی رقمیں جمع کرا رہے تھے، بلکہ بعض نے اپنے زیورات اور مکانات تک فروخت کرکے ان اداروں میں رقمیں جمع کرانا شروع کردیں، ان اداروں کی یہ عوامی مقبولیت ہی ان اداروں کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی:
’’اے روشنی طبع تو بر من بلا شدی‘‘
حکومت کے ’’ماہرینِ معاشیات‘‘ اور سرکاری و نیم سرکاری مالیاتی اداروں کے بزرچ مہروں کو بجا طور پر یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اگر ان نجی اداروں کی ساکھ بڑھتی رہی اور ان پر عوام کے اعتماد کا یہی عالم رہا تو حکومت کے مالیاتی ادارے اور سرکاری و نیم سرکاری بینک (جو ان کمپنیوں کی وجہ سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں) یکسر مفلوج ہوکر رہ جائیں گے اور حکومت کے سودی نظام سے عوام کا اعتماد بالکل ختم ہوجائے گا۔ سرکار کے مالیاتی اداروں کے اس درد کا مداوا حکومت نے یہ تجویز کیا کہ راتوں رات ان گستاخ نجی اداروں پر قبضہ کرلیا اور اس کو اسکینڈل بناکر ان اداروں کے چلانے والوں کو جرمِ بے گناہی کے الزام میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ جس سے سرکارِ عالی کو دو فائدے حاصل ہوئے۔ ایک یہ کہ حکومت کے جو ادارے جان کنی کی حالت میں دَم توڑ رہے تھے، ان نجی اداروں کا گلا گھونٹ کر ان جاںبلب سرکاری اداروں کو آکسیجن مہیا کردی گئی اور انہیں اپنی موت مرنے سے بچالیا گیا۔
دوم یہ کہ ان نجی اداروں کو ان کی گستاخی کی ایسی سزا دی گئی کہ آئندہ دُوسروں کے لئے عبرت ہو۔ اور کوئی شخص حکومت کے سودی نظام کے جال سے نکل کر شریعتِ محمدیہ کے مطابق آزادانہ کاروبار کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ حکومت نے اپنے اس اقدام کے ذریعہ ان نجی کمپنیوں کا جو حشر کیا اس کو دیکھنے کے بعد انسان تو انسان، اگر بالفرض کوئی معصوم فرشتہ بھی آسمان سے نازل ہوجائے اور وہ عوام سے وعدہ کرے کہ وہ ان کی رقموں کو پوری دیانت و امانت کے ساتھ کاروبار میں لگائے گا، شریعتِ خداوندی کے عین مطابق کاروبار کرے گا، اور پوری دیانت داری کے ساتھ وہ حاصل شدہ منافع کو حصہ داروں پر تقسیم کرے گا، تب بھی عوام کو حوصلہ اور جرأت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے اثاثے اس معصوم فرشتے کے حوالے کردیں، کیونکہ حکومت کے جبری قبضے کی تلوار ان کے سر پر ہمیشہ لٹکتی رہے گی۔ اس کے مقابلے میں وہ حکومت کے سودی اداروں میں رقمیں جمع کرانے کو ترجیح دیں گے، اور ان سے سودی منافع لے کر اپنے دین و ایمان اور اپنے ضمیر کا قتل بہتر سمجھیں گے، شیخ سعدیؒ کے ارشاد: ’’سگہا را کشادہ و سنگہا را بستہ‘‘ کی کیسی اچھی تعمیل ہے۔۔۔؟
ان کمپنیوں پر قبضہ جمانے کے بعد کئی سال سے حکومت، عوام کو رقمیں لوٹانے کے سہانے خواب دِکھا رہی ہے، لیکن آج تک تو وہ شرمندۂ تعبیر نہیں ہوئے، ان غصب شدہ کمپنیوں میں جو نقد اثاثے موجود تھے شنید ہے سرکار دیار میں اثر و رسوخ رکھنے والے حضرات ان سے اپنا حصہ وصول کرچکے ہیں، باقی سامان گلتا رہے، سڑتا رہے، برباد ہوتا رہے، اور غریب بوڑھے پنشنرز، بیوائیں، یتیم بچے اور نادار لوگ چیختے رہیں، چلاتے رہیں، بلبلاتے رہیں، حکومت کے کارپردازوں کو اس کی کیا پروا۔۔۔؟
بنی اسرائیل کے مظلوموں کی صدائیں فرعون کے بلند و بالا محلات تک کب پہنچتی ہیں؟
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے!
الغرض! عوام کی یہ رقمیں جو حکومت کے آہنی چنگل میں پھنسی ہوئی ہیں وہ ان کمپنیوں کے پاس امانت تھیں، اور حکومت نے ان کمپنیوں کو اپنی تحویل میں لے کر ان عوامی امانتوں پر قبضہ جمالیا ہے، اور ایسا مال جس کو حکومت نے زبردستی اپنی تحویل میں لے لیا ہو، وہ حضراتِ فقہاءؒ کی اصطلاح میں ’’مالِ ضمار‘‘ کہلاتا ہے،(۲) اور ’’مالِ ضمار‘‘ کی زکوٰۃ کا حکم(۳) یہ ہے کہ جب تک وہ مال دوبارہ وصول نہ ہوجائے اس پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں، اور جب وصول ہوجائے تو مالک اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو جب اس کے نصاب پر سال پورا ہوگا، اس وقت اس رقم پر بھی صرف اسی سال کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اور اگر اس وصول ہونے والی رقم کا مالک پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں تھا تو جب اس رقم پر سال پورا ہوجائے گا، تب اس پر اس سال کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔(۴)
تاہم اگر کسی کو ان رُقوم کی وصول کا ظنِ غالب ہو، ان کو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے۔
اس ناکارہ نے یہ مسئلہ اپنے علم و فہم کے مطابق لکھا ہے، اگر اس میں اس کوتاہ فہم سے غلطی ہوئی ہو تو اہلِ علم سے استدعا ہے کہ اس کی تصحیح فرماکر ممنون فرمائیں۔
- (۱) ثم المدفوع إلی المضارب أمانۃٌ فی یدہ لأنہ قبضہ بأمر مالکہ لَا علٰی وجہ البدل والوثیقۃ وھو وکیل فیہ لأنہ یتصرف فیہ بأمر مالکہ إذا ربح فھو شریک فیہ لتملکہ جزء من المال۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۵۷، کتاب البیوع، باب المضاربۃ)۔
- (۲) وھو کل ما بقی فی ملکہ ولٰـکن زال عن یدہ زوالًا لَا یرجٰی عودہ فی الغالب۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۴، کتاب الزکاۃ)۔
- (۳) یشترط أن یتمکن من الْإستنماء بکون المال فی یدہ أو ید نائبہ فإن لم یتمکن من الْإستنماء فلا زکٰوۃ علیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۷۴، کتاب الزکاۃ، الباب الأوّل فی تفسیرھا وصفتھا، ومنھا کون النصاب نامیا)۔
- (۴) الزکٰوۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ إذا ملک نصابًا ملکا تاما وحال علیہ الحول۔ (ج:۱ ص:۱۸۵، کتاب الزکٰوۃ، ھدایۃ لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم لَا زکٰوۃ فی مال حتی یحول علیہ الحول۔ رواہ ابن ماجۃ عن عائشۃ۔ (ھدایۃ، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۱۸۵)۔

