زکوٰۃکانصاباورشرائط
کمپنیمیںنصابکےبرابرجمعشدہرقمپرزکوٰۃواجبہے
سوال:۔
میں نے پیسے کسی کمپنی کو دئیے ہیں، جو کہ منافع و نقصان کی بنیاد پر ہر ماہ منافع ادا کرتی ہے، جس سے ہمارے گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں۔ میری آمدنی کبھی اتنی نہیں ہوتی کہ بہت ہی ضروری گھر کے اخراجات کے بعد کچھ پس انداز کرلیا جائے، کیونکہ ہم کثیرالاولاد ہیں۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ زکوٰۃ کس طرح سے ادا ہو؟ اگر ماہانہ آمدنی سے ادا کرتے ہیں تو فاقہ کی صورت پیش آتی ہے، اور اگر اصل مال سے نکلواتے ہیں تو بھی آمدن مزید کم ہوجاتی ہے، اور ہاتھ تو پہلے ہی تنگ رہتا ہے، پھر قرض اُٹھانے کی ضرورت پیش آئے گی، جس سے ہمیشہ بچتا ہوں، اور قرض کبھی نہیں لیتا، رہنمائی فرمائیں۔
جواب:۔
جو رقم آپ نے کمپنی میں جمع کر رکھی ہے اگر وہ مالیتِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر ہے، تو اس کی زکوٰۃ آپ کے ذمہ ہے۔(۱) زکوٰۃ ادا کرنے کی جو صورت بھی آپ اختیار کریں۔
- (۱) وشرطہ أی شرط إفتراض أدائھا حولَان الحول وھو فی ملکہ وثمنیۃ المال کالدراھم والدنانیر لتعینھما للتجارۃ بأصل الخلقۃ فتلزم الزکٰوۃ کیفما أمسکھما ولو للنفقۃ۔ (قولہ وشرطہ) ۔۔۔ وما ھنا شرط فی نفس المال المزکی (قولہ وھو فی ملکہ) أی التام فخرج الضمار۔ (الدر المختار مع الحاشیۃ الطحطاوی، کتاب الزکٰوۃ ج:۱ ص:۳۹۳، طبع رشیدیہ)۔

