بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

زکوٰۃ‌کا‌نصاب‌اور‌شرائط

پراویڈنٹ‌فنڈ‌پر‌زکوٰۃ

سوال:۔

میں ایک مقامی بینک میں ملازم ہوں، جہاں میرا فنڈ مبلغ ۲۹ہزار روپے جمع ہوگیا ہے، اور اس میں سے میں نے کل ۲۷ہزار روپے بطور لون لیا ہے، کیا اس پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی؟ اگر دینی ہوگی تو کب سے اور کتنی؟

جواب:۔

پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ وصول ہوجائے، جب تک وہ گورنمنٹ کے کھاتے میں جمع ہے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں،(۱) اس مسئلے پر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کا رسالہ لائقِ مطالعہ ہے۔(۲)

  1. (۱) الدیون علٰی ثلاثۃ مراتب: قوی ۔۔۔ ووسط کبدل مال لم یکن للتجارۃ وغلۃ مال لم یکن للتجارۃ وإنما یخاطب بأداء زکٰوتہ عند قبض مأتین منھا، وضعیف کبدل ما لیس بما وھو المھر ۔۔۔ وإنما یخاطب بأداء زکٰوتہ إذا قبض مأتین وحال علیھا الحول بعد القبض وھٰذا قول أبی حنیفۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، الفصل السادس فی الدیون ج:۱ ص:۲۳۸ طبع رشیدیہ کوئٹہ، وأیضًا فی الشامیۃ ج:۲ ص:۳۰۵، ۳۰۶، مطلب فی وجوب الزکاۃ فی دین المرصد)۔
  2. (۲) دیکھئے: جواہر الفقہ ج:۱ ص:۳۸۵، از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، طبع دارالعلوم کراچی۔ ’’پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ اور سود کا مسئلہ‘‘ حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ۔