زکوٰۃکانصاباورشرائط
حصصپرزکوٰۃ
سوال:۔
میرے پاس ایک کمپنی کے سات سو حصص ہیں، جن کی اصلی قیمت دس روپیہ فی حصص ہے، جبکہ موجودہ قیمت ۳۰ روپے فی حصص ہے، زکوٰۃ کون سی قیمت پر واجب ہوگی؟
سوال:۔
جمعہ کی اشاعت میں حصص پر زکوٰۃ کی ادائیگی کے بارے میں مسئلہ پڑھا، لیکن سوال یہ ہے کہ تمام محدود کمپنیاں زکوٰۃ و عشر آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۰ء کے تحت کمپنی کے اثاثہ جات پر زکوٰۃ منہا کرتی ہیں، اور یہ رقم اس آرڈیننس کی دفعہ۷ کے مطابق قائم شدہ سنٹرل زکوٰۃ فنڈ کو منتقل کردی جاتی ہیں، نیز یہ اداشدہ زکوٰۃ حصص داران کے حصص کے تناسب کے حساب سے ان کے حاصل شدہ منافع میں سے کاٹ لی جاتی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ ایک مرتبہ اجتماعی کاروبار سے زکوٰۃ منہا ہوجانے کے بعد بھی دوبارہ ہر حصہ دار کو اپنے ان حصص پر انفرادی طور پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
جواب:۔
حصص کی اس قیمت پر جو وجوبِ زکوٰۃ کے دن ہو۔(۱)
جواب:۔
اگر حصہ داروں کے حصص سے زکوٰۃ وصول کرلی گئی تو ان کو انفرادی طور پر اپنے حصوں کی زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں، البتہ اس میں گفتگو ہوسکتی ہے کہ حکومت جس انداز سے زکوٰۃ کاٹ لیتی ہے، وہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور اس سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے یا نہیں؟ بہت سے علماء، حکومت کے طریقِ کار کی تصویب کرتے ہیں، اور اس سے زکوٰۃ ادا ہوجانے کا فتویٰ دیتے ہیں، جبکہ بہت سے علماء کی رائے اس کے خلاف ہے، اور وہ حکومت کی کاٹی ہوئی زکوٰۃ کو اداشدہ نہیں سمجھتے، ان حضرات کے نزدیک ان تمام رقوم کی زکوٰۃ مالکان کو خود ادا کرنی چاہئے جو حکومت نے وضع کرلی ہو۔(۲)
- (۱) وإن أدی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۰، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث)۔
- (۲) تفصیل دیکھئے: أحسن الفتاویٰ ج:۴ ص:۳۰۳، طبع ایچ ایم سعید، وخیر الفتاویٰ ج:۳، کتاب الزکاۃ، وجواھر الفتاویٰ۔

