زکوٰۃکانصاباورشرائط
واجبالوصولرقمکیزکوٰۃ
سوال:۔
میں ایک ایسا کام کرتا ہوں کہ خدمات کی انجام دہی کی رقوم کافی لوگوں کی طرف واجب الوصول رہتی ہیں، اور وصولی بھی پانچ چھ مہینے بعد ہوتی ہے، کچھ لوگوں سے وصولی کی بہت کم اُمید ہوتی ہے، کیا ان واجب وصول رقوم پر زکوٰۃ دینی چاہئے یا جب وصول ہوجائیں اس کے بعد؟
جواب:۔
کاریگر کو کام کرنے کے بعد جب اس کا حق الخدمت (اُجرت، مزدوری) وصول ہوجائے تب اس کا مالک ہوتا ہے، پس اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو جب آپ کا زکوٰۃ کا سال پورا ہو، اس وقت تک جتنی رقوم وصول ہوجائیں ان کی زکوٰۃ ادا کردیا کیجئے، اور جو آئندہ سال وصول ہوں گی ان کی زکوٰۃ بھی آئندہ سال دی جائے گی۔(۱)
- (۱) واعلم أن الدیون عند الْإمام ثلاثۃ قوی ومتوسط وضعیف، فتجب زکاتھا ۔۔۔ عن قبض مائتین مع حولَان الحول بعد أی بعد القبض من دین ضعیف وھو بدل غیر مال کمھر ودیۃ وبدل کتابۃ وخلع إلّا إذا کان عندہ ما یضم إلی الدین الضعیف۔ وفی الشامیۃ: (قولہ إلّا إذا کان إلخ) إستثناء من إشتراط حولَان الحول بعد القبض ۔۔۔ والحاصل أنہ إذا قبض منہ شیئًا وعندہ نصاب یضم المقبوض إلی النصاب ویزکیہ بحولہ ولَا یشترط لہ حول بعد القبض۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۲ ص:۳۰۵، ۳۰۶، مطلب فی وجوب الزکاۃ فی دین المرصد)۔

